حدیث نمبر: 20465
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ زَيْدٍ الْجَمَّالُ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْخُرَاسَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي هَارُونَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ، فَإِذَا هُوَ بِنَصْرَانِيٍّ يَبِيعُ دِرْعًا، قَالَ: فَعَرَفَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الدِّرْعَ فَقَالَ: هَذِهِ دِرْعِي، بَيْنِي وَبَيْنَكَ قَاضِي الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: وَكَانَ قَاضِيَ الْمُسْلِمِينَ شُرَيْحٌ، كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَقْضَاهُ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَى شُرَيْحٌ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَامَ مِنْ مَجْلِسِ الْقَضَاءِ، وَأَجْلَسَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَجْلِسِهِ، وَجَلَسَ شُرَيْحٌ قُدَّامَهُ إِلَى جَنْبِ النَّصْرَانِيِّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَا يَا شُرَيْحُ لَوْ كَانَ خَصْمِي مُسْلِمًا لَقَعَدْتُ مَعَهُ مَجْلِسَ الْخَصْمِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُصَافِحُوهُمْ، وَلَا تَبْدَؤُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَلَا تَعُودُوا مَرْضَاهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ، وَأَلْجِئُوهُمْ إِلَى مَضَايِقِ الطُّرُقِ، وَصَغِّرُوهُمْ كَمَا صَغَّرَهُمُ اللهُ "، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَهُ يَا شُرَيْحُ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: تَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذِهِ دِرْعِي ذَهَبَتْ مِنِّي مُنْذُ زَمَانٍ، قَالَ: فَقَالَ شُرَيْحٌ: مَا تَقُولُ يَا نَصْرَانِيُّ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّصْرَانِيُّ: مَا أُكُذِّبُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، الدِّرْعُ هِيَ دِرْعِي قَالَ: فَقَالَ شُرَيْحٌ: مَا أَرَى أَنْ تُخْرَجَ مِنْ يَدِهِ، فَهَلْ مِنْ بَيِّنَةٍ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: صَدَقَ شُرَيْحٌ، قَالَ: فَقَالَ النَّصْرَانِيُّ: أَمَّا أَنَا، أَشْهَدُ أَنَّ هَذِهِ أَحْكَامُ الْأَنْبِيَاءِ، أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَجِيءُ إِلَى قَاضِيهِ، وَقَاضِيهِ يَقْضِي عَلَيْهِ هِيَ وَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ دِرْعُكَ، اتَّبَعْتُكَ مِنَ الْجَيْشِ وَقَدْ زَالَتْ عَنْ جَمَلِكَ الْأَوْرَقِ، فَأَخَذْتُهَا، فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا إِذَا أَسْلَمْتَ فَهِيَ لَكَ، وَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ " قَالَ: فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ يُقَاتِلُ ⦗٢٣١⦘ الْمُشْرِكِينَ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي زَكَرِيَّا، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ قَالَ: يَا شُرَيْحُ، لَوْلَا أَنَّ خَصْمِيَ نَصْرَانِيٌّ لَجَثَيْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ: فَوَهَبَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَهُ، وَفَرَضَ لَهُ أَلْفَيْنِ، وَأُصِيبَ مَعَهُ يَوْمَ صِفِّينَ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَيْضًا ضَعِيفٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بازار گئے، ایک نصرانی زرہ فروخت کر رہا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ پہچان لی اور کہا: ”یہ میری زرہ ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فیصلے کا تقاضا کیا۔ جب قاضی شریح رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین کو دیکھا تو اپنی مجلسِ قضا سے کھڑے ہو گئے اور اپنی جگہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بٹھا دیا اور قاضی شریح رحمہ اللہ ان کے سامنے نصرانی کے ایک پہلو میں بیٹھ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے شریح! اگر میرا جھگڑا کرنے والا مسلمان ہوتا تو میں جھگڑا کرنے والے کی جگہ رہتا، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے مصافحہ، سلام کی ابتدا، مریض کی تیمارداری نہ کرو۔ نمازِ جنازہ نہ پڑھو، ان کو تنگ راستوں کی طرف مجبور کر دو۔ ان کی تذلیل کرو جیسے اللہ نے ان کو ذلیل کیا ہے۔“ میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کیجیے اے شریح!“ شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: ”اے امیر المؤمنین! بات کریں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”یہ میری زرہ چند دن پہلے گم ہو گئی تھی۔“ قاضی شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اے نصرانی! تم کیا کہتے ہو؟“ نصرانی نے کہا: ”میں امیر المؤمنین کی تکذیب نہیں کرتا، لیکن زرہ میری ہے۔“
قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ”میں اس کے ہاتھ سے نکالنا نہیں چاہتا، کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شریح نے سچ کہا۔“ نصرانی کہنے لگا: ”یہ انبیاء کے احکام ہیں کہ امیر المؤمنین اپنے قاضی کے پاس اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر دے۔ اے امیر المؤمنین! یہ زرہ آپ کی ہے۔ میں نے لشکر سے خریدی۔ آپ کے خاکستری رنگ کے اونٹ سے گری تھی، میں نے پکڑ لی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم مسلمان ہو گئے، اب یہ آپ کی۔“ اس کو سواری کے لیے گھوڑا بھی دیا۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو مشرکین سے جہاد کرتے دیکھا ہے۔
(ب) ابن عبدان کہتے ہیں: ”اے قاضی شریح! اگر میرا جھگڑا کرنے والا نصرانی نہ ہوتا تو میں آپ کے سامنے بیٹھتا۔“ آخر میں ہے، یہ زرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو ہبہ کر دی، دو ہزار وظیفہ مقرر کر دیا، یہ جنگِ صفین کے دن شہید ہوئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20465
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»