السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: القاضي لا ينهر الخصمين باب: قاضی دونوں فریقین کو نہ جھڑکے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ الْمِصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَمَاسَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَتْ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُخْبِرُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا: " اللهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفِقْ بِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَيْلِيِّ.عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا۔ میں نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے پوچھا: تو کون ہے؟ میں نے کہا: میں اہل مصر سے ہوں۔ فرمایا: میں تجھے وہ خبر دیتی ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، آپ ﷺ نے میرے اس گھر میں فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» ”اے اللہ! جو میری امت کے کسی معاملے کا والی بنا اور ان پر مشقت کی تو اے اللہ! تو بھی اس پر مشقت کر، اور جو میری امت پر نرمی کرے تو بھی اس پر نرمی کر۔“