حدیث نمبر: 20464
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ أَبِي عُصَيْفِيرٍ إِلَى شُرَيْحٍ يُخَاصِمُ رَجُلًا، فَجَلَسَ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ، فَقَالَ لَهُ: " قُمْ، فَاجْلِسْ مَعَ خَصْمِكَ، فَإِنَّ مَجْلِسَكَ يُرِيبُهُ "، فَغَضِبَ ابْنُ أَبِي عُصَيْفِيرٍ، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ: " قُمْ فَاجْلِسْ مَعَ خَصْمِكَ إِنِّي لَا أَدَعُ النُّصْرَةَ وَأَنَا عَلَيْهَا لَقَادِرٌ ".
حافظ ثناء اللہ

تمیم بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی عصیفیر رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس جھگڑا لے کر آئے، وہ ان کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ گئے، انہوں نے کہا: کھڑے ہو جاؤ، اپنے جھگڑا کرنے والے کے ساتھ بیٹھو، آپ کا یہاں بیٹھنا شک میں ڈالتا ہے۔ ابن ابی عصفیر رحمہ اللہ کو غصہ آیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ کہنے لگے: کھڑے ہو جاؤ، اپنے جھگڑا کرنے والے کے ساتھ بیٹھو، میں مدد کو نہ چھوڑوں گا کہ میں اس پر قادر ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20464
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»