السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: إنصاف الخصمين في المدخل عليه، والاستماع منهما، والإنصاف لكل واحد منهما حتى تنفد حجته، وحسن الإقبال عليهما باب: اپنے پاس داخل ہونے میں دونوں فریقین کے درمیان برابری رکھنا، ان دونوں کی بات سننا، ان میں سے ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا یہاں تک کہ اس کی دلیل مکمل ہو جائے، اور ان دونوں کی طرف یکساں حسنِ توجہ مرکوز رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا سَيَّارٌ، ثنا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَبَيْنَ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَدَارٍ فِي شَيْءٍ، وَادَّعَى أُبَيٌّ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَأَتَيَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَيْهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَتَيْنَاكَ لِتَحْكُمَ بَيْنَنَا، وَفِي بَيْتِهِ يُؤْتَى الْحَكَمُ، فَوَسَّعَ لَهُ زَيْدٌ عَنْ صَدْرِ ⦗٢٣٠⦘ فِرَاشِهِ، فَقَالَ: " هَهُنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَقَدْ جُرْتَ فِي الْفُتْيَا، وَلَكِنْ أَجْلِسُ مَعَ خَصْمِي، فَجَلَسَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَادَّعَى أُبَيٌّ وَأَنْكَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ زَيْدٌ لِأُبَيٍّ: أَعْفِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْيَمِينِ، وَمَا كُنْتُ لِأَسْأَلَهَا لِأَحَدٍ غَيْرِهِ، فَحَلَفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ أَقْسَمَ: لَا يُدْرِكُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْقَضَاءَ حَتَّى يَكُونَ عُمَرُ وَرَجُلٌ مِنْ عُرْضِ الْمُسْلِمِينَ عِنْدَهُ سَوَاءً ".امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ مسئلہ تھا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ کر دیا، انہوں نے انکار کر دیا، وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر آئے۔ جب وہ دونوں ان کے پاس گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کریں اور ان کے گھر حاکم آئے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے اپنے بستر کے صدر میں جگہ کشادہ کی اور کہا: اے امیر المؤمنین! یہاں تشریف رکھو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو نے پہلے ہی فتویٰ میں ناانصافی کی ہے، بلکہ میں اپنے جھگڑا کرنے والے ساتھی کے ساتھ بیٹھوں گا۔ وہ ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دعویٰ کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہا: امیر المؤمنین کو قسم سے معاف کر دو، میں ان کے سوا کسی کے لیے یہ سوال نہ کرتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی۔ پھر انہوں نے قسم کھا کر کہا: زید بن ثابت قضا (کے مرتبے) کو نہیں پا سکتا یہاں تک کہ عمر اور مسلمانوں کا ایک عام آدمی ان کے نزدیک برابر ہو جائیں۔