السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: إنصاف الخصمين في المدخل عليه، والاستماع منهما، والإنصاف لكل واحد منهما حتى تنفد حجته، وحسن الإقبال عليهما باب: اپنے پاس داخل ہونے میں دونوں فریقین کے درمیان برابری رکھنا، ان دونوں کی بات سننا، ان میں سے ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا یہاں تک کہ اس کی دلیل مکمل ہو جائے، اور ان دونوں کی طرف یکساں حسنِ توجہ مرکوز رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20462
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي رَوَاحَةَ يَزِيدَ بْنِ أَيْهَمَ قَالَ: " كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّاسِ: اجْعَلُوا النَّاسَ عِنْدَكُمْ فِي الْحَقِّ سَوَاءً، قَرِيبُهُمْ كَبَعِيدِهِمْ، وَبَعِيدُهُمْ كَقَرِيبِهِمْ، وَإِيَّاكُمْ وَالرِّشَا، وَالْحُكْمَ بِالْهَوَى، وَأَنْ تَأْخُذُوا النَّاسَ عِنْدَ الْغَضَبِ، فَقُومُوا بِالْحَقِّ، وَلَوْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابورواحہ یزید بن ایہم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خط لکھا: تمام لوگوں کو حق میں برابر رکھو، ان کا قریبی دور والے کی مانند ہے اور دور والا قریب والے کی مانند ہے، رشوت سے بچو، خواہشات کے موافق فیصلے سے بچو، غصے کے وقت لوگوں کو چھوڑ دو، حق کو قائم کرو اگرچہ دن کی ایک گھڑی ہی کیوں نہ ہو۔