السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: إنصاف الخصمين في المدخل عليه، والاستماع منهما، والإنصاف لكل واحد منهما حتى تنفد حجته، وحسن الإقبال عليهما باب: اپنے پاس داخل ہونے میں دونوں فریقین کے درمیان برابری رکھنا، ان دونوں کی بات سننا، ان میں سے ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا یہاں تک کہ اس کی دلیل مکمل ہو جائے، اور ان دونوں کی طرف یکساں حسنِ توجہ مرکوز رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20461
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنَّ النَّاسَ يُؤَدُّونَ إِلَى الْإِمَامِ مَا أَدَّى الْإِمَامُ إِلَى اللهِ، وَإِنَّ الْإِمَامَ إِذَا رَتَعَ رَتَعَتِ الرَّعِيَّةُ، وَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ لِلنَّاسِ نُفْرَةٌ عَنْ سُلْطَانِهِمْ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ يُدْرِكَنِي وَإِيَّاكُمْ ضَغَائِنُ مَحْمُولَةٌ، وَأَهْوَاءٌ مُتَّبَعَةٌ، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةٌ، فَأَقِيمُوا الْحَقَّ، وَلَوْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ".حافظ ثناء اللہ
یزید بن رومان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ لوگ امام کے حقوق ادا کرتے رہیں گے، جب تک امام اللہ کے حقوق ادا کرے گا۔ امام جب خوشحال زندگی بسر کرے گا تو رعایا بھی ایسی ہی زندگی بسر کرے گی۔ قریب ہے کہ لوگ اپنے بادشاہوں سے متنفر ہو جائیں۔ میں اللہ سے پناہ چاہتا ہوں کہ یہ وقت مجھے پا لے اور تم کینہ سے بچو۔ ایسی خواہشات سے بچو جن کی پیروی کی جائے اور دنیا کو ترجیح دی جائے۔ حق کو قائم کرو چاہے دن کی ایک گھڑی ہی کیوں نہ ہو۔