السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: إنصاف الخصمين في المدخل عليه، والاستماع منهما، والإنصاف لكل واحد منهما حتى تنفد حجته، وحسن الإقبال عليهما باب: اپنے پاس داخل ہونے میں دونوں فریقین کے درمیان برابری رکھنا، ان دونوں کی بات سننا، ان میں سے ہر ایک کے ساتھ انصاف کرنا یہاں تک کہ اس کی دلیل مکمل ہو جائے، اور ان دونوں کی طرف یکساں حسنِ توجہ مرکوز رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20460
وَالِاعْتِمَادُ عَلَى مَا: حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، إِمْلَاءً، وَقِرَاءَةً، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا وَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ، وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، افْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ، فَإِنَّهُ لَا يَنْفَعُ كَلِمَةُ حَقٍّ لَا نَفَاذَ لَهُ، آسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِكَ وَمَجْلِسِكَ وَعَدْلِكَ، حَتَّى لَا يَطْمَعَ شَرِيفٌ فِي حَيْفِكَ، وَلَا يَخَافَ ضَعِيفٌ مِنْ جَوْرِكَ ".حافظ ثناء اللہ
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط نکالا اور کہا: یہ خط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ہے، حمد و ثنا کے بعد! قضا کا انتہائی اہم عہدہ ہے اور ایسا طریقہ جس کی پیروی کی جائے۔ سمجھ! جب کیس پیش کیا جائے تو حق بات کے نفاذ میں کسر نہ چھوڑیں۔ لوگوں کو اپنے سامنے اپنی مجلس میں برابر رکھنا تاکہ شریف آدمی آپ کی نرمی سے لالچ نہ کر بیٹھے اور کمزور آپ کے ظلم سے خوف محسوس نہ کرے۔