السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
جماع أبواب ما على القاضي في الخصوم والشهود -- باب: إنصاف القاضي في الحكم، وما يجب عليه من العدل فيه، لما في الظلم من عظيم الوزر، وكبير الإثم باب: فریقین (مقدمہ) اور گواہوں کے حوالے سے قاضی پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے جامع ابواب کا بیان۔ -- باب: قاضی کا فیصلے میں انصاف کرنا، اور اس پر عدل قائم کرنا کس قدر واجب ہے کیونکہ ظلم کرنے میں بہت بھاری بوجھ اور بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 20453
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا شُعْبَةُ، وَمِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَكَمِ ابْنِ مِينَاءَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنَّ إِحْدَى إِصْبَعِيَّ لَفِي جُرْحِهِ، هَذِهِ أَوْ هَذِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنِّي لَا أَخَافُ النَّاسَ عَلَيْكُمْ، إِنَّمَا أَخَافُكُمْ عَلَى النَّاسِ، إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ اثْنَتَيْنِ، لَنْ تَبْرَحُوا بِخَيْرٍ مَا لَزِمْتُمُوهُمَا: الْعَدْلُ فِي الْحَكَمِ، والْعَدْلُ فِي الْقَسْمِ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ مَخْرَفَةِ النَّعَمِ، إِلَّا أَنْ يَعْوَجَّ قَوْمٌ فَيُعْوَجَّ بِهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کی دو انگلیوں میں سے اس میں یا اس میں زخم ہے اور وہ کہہ رہے تھے: اے مسلمانوں کی جماعت! میں تمہارے اوپر خوف نہیں کھاتا، کیونکہ میں نے تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں۔ جب تک ان کو تھامے رکھو گے بھلائی پر رہو گے: فیصلے میں انصاف کرنا اور تقسیم میں عدل کرنا۔ میں نے تمہارے لیے جانوروں کی چراگاہ چھوڑی ہے، اگر قوم ٹیڑھی ہوئی تو وہ بھی الٹ جائے گی۔