السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
جماع أبواب ما على القاضي في الخصوم والشهود -- باب: إنصاف القاضي في الحكم، وما يجب عليه من العدل فيه، لما في الظلم من عظيم الوزر، وكبير الإثم باب: فریقین (مقدمہ) اور گواہوں کے حوالے سے قاضی پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے جامع ابواب کا بیان۔ -- باب: قاضی کا فیصلے میں انصاف کرنا، اور اس پر عدل قائم کرنا کس قدر واجب ہے کیونکہ ظلم کرنے میں بہت بھاری بوجھ اور بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 20454
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ حُذَيْفَةَ قَاضِيًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَشْرَافِ وَهُوَ يَسْتَوْقِدُ فَسَأَلَهُ حَاجَةً، قَالَ لَهُ ابْنُ حُذَيْفَةَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تُدْخِلَ إِصْبَعَكَ فِي هَذِهِ النَّارِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ قَالَ: " أَفَبَخِلْتَ عَلِيَّ بِأُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِكَ فِي هَذِهِ النَّارِ، وَسَأَلْتَنِي جِسْمِي "، أَوْ قَالَ: " ⦗٢٢٨⦘ كُلَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبیدہ بن حذیفہ رحمہ اللہ قاضی بنے تو ایک معزز آدمی ان کے پاس آیا، وہ آگ جلا رہے تھے۔ اس نے ضرورت کا سوال کیا تو ابن حذیفہ رحمہ اللہ نے کہا: میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی انگلی اس آگ میں ڈالو۔ اس نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے۔“ انہوں نے کہا: کیا آپ اپنی ایک انگلی کا بخل کر رہے ہیں یا آپ میرے مکمل جسم کو آگ میں دھکیل رہے ہیں؟