السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
جماع أبواب ما على القاضي في الخصوم والشهود -- باب: إنصاف القاضي في الحكم، وما يجب عليه من العدل فيه، لما في الظلم من عظيم الوزر، وكبير الإثم باب: فریقین (مقدمہ) اور گواہوں کے حوالے سے قاضی پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے جامع ابواب کا بیان۔ -- باب: قاضی کا فیصلے میں انصاف کرنا، اور اس پر عدل قائم کرنا کس قدر واجب ہے کیونکہ ظلم کرنے میں بہت بھاری بوجھ اور بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 20452
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّجُ عَلَيْكُمْ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ: الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں کمزوروں، عورتوں اور یتیموں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں۔“
(ب) عبداللہ بن عبدالعزیز عمری رحمہ اللہ نبی ﷺ سے مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنایا گیا، فرمایا: ”کمینے کو شریف سے پہلے رکھنا اور کمزور کو قوی سے پہلے۔“