السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
جماع أبواب ما على القاضي في الخصوم والشهود -- باب: إنصاف القاضي في الحكم، وما يجب عليه من العدل فيه، لما في الظلم من عظيم الوزر، وكبير الإثم باب: فریقین (مقدمہ) اور گواہوں کے حوالے سے قاضی پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے جامع ابواب کا بیان۔ -- باب: قاضی کا فیصلے میں انصاف کرنا، اور اس پر عدل قائم کرنا کس قدر واجب ہے کیونکہ ظلم کرنے میں بہت بھاری بوجھ اور بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 20451
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ، فَإِذَا جَارَ بَرِئَ اللهُ مِنْهُ، وَأَلْزَمَهُ الشَّيْطَانَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک قاضی ظلم نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے، جب وہ ظلم کرے تو اللہ اس سے بری ہو جاتا ہے اور شیطان اس کے ساتھ ہو جاتا ہے۔“