السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من اجتهد، ثم رأى أن اجتهاده خالف نصا أو إجماعا أو ما في معناه، رده على نفسه، وعلى غيره باب: اس شخص کا بیان جس نے اجتہاد کیا، پھر اس نے دیکھا کہ اس کا اجتہاد کسی نص، اجماع یا ان کے ہم معنی کسی چیز کے خلاف ہے تو وہ اپنے اور دوسروں کے حق میں اسے رد کر دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ ⦗٢٠٦⦘ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ خَرَشَةَ الْكِلَابِيَّ، قَالَ لَهُ بَنُو عَمِّهِ، وَبَنُو عَمِّ امْرَأَتِهِ: إِنَّ امْرَأَتَكَ لَا تُحِبُّكَ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَعْلَمَ ذَلِكَ، فَخَيِّرْهَا، فَقَالَ: يَا بَرْزَةَ بِنْتَ الْحُرِّ اخْتَارِي، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ اخْتَرْتُ، وَلَسْتَ بِخِيَارٍ، قَالَتْ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالُوا: حَرُمَتْ عَلَيْكَ، فَقَالَ: كَذَبْتُمْ، فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " لَئِنْ قَرَبْتَهَا حَتَّى تُنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ لَأُغُيِّبَنَكَ بِالْحِجَارَةِ "، أَوْ قَالَ: " أَرْضَخُكَ بِالْحِجَارَةِ "، قَالَ: فلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا تُرَابٍ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: قَدْ أَجَزْنَا قَضَاءَهُ عَلَيْكَ، أَوْ قَالَ: مَا كُنَّا لَنَرُدُ قَضَاءً قَضَاهُ عَلَيْكَ.عباس بن خرشہ کلابی سے ان کے چچاؤں کے بیٹے اور ان کی بیوی کے چچاؤں کے بیٹے نے کہا: تیری عورت تجھ سے محبت نہیں کرتی، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو اس کو اختیار دے دو۔ اس نے اپنی بیوی برزہ بنت حر کو اختیار دے دیا۔ وہ کہنے لگی: تجھ پر افسوس! میں نے اپنا اختیار استعمال کر لیا، لیکن اب آپ کو اختیار نہیں۔ اس نے یہ تین بار کہہ دیا۔ انہوں نے کہا: یہ تیرے اوپر حرام ہو گئی۔ وہ کہنے لگے: تم جھوٹ بولتے ہو۔ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر تذکرہ کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے پاس گیا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس وجہ سے میرے اور میری بیوی کے درمیان تفریق کروا دی تھی، انہوں نے کہا: ہم نے بھی وہی فیصلہ باقی رکھا یا فرمایا: ہم ان کے فیصلے میں تبدیلی نہ کریں گے۔