السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من اجتهد من الحكام، ثم تغير اجتهاده، أو اجتهاد غيره فيما يسوغ فيه الاجتهاد، لم يرد ما قضى به استدلالا بما مضى في خطأ القبلة في كتاب الصلاة باب: حاکموں میں سے جو اجتہاد کرے پھر اس کا یا کسی اور کا اجتہاد ان معاملات میں تبدیل ہو جائے جن میں اجتہاد کی گنجائش ہے تو وہ اپنے کیے گئے فیصلے کو رد نہیں کرے گا، اس سے استدلال کرتے ہوئے جو کتاب الصلاۃ میں قبلے کی غلطی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لِأَخِي شُرَيْحِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَدَتْ لَهُ جَارِيَةً، فَزُوِّجَتْ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ أُمُّ الْوَلَدِ، قَالَ: فَاخْتَصَمَ فِي مِيرَاثِهَا شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ ابْنَتِهَا إِلَى شُرَيْحٍ فَجَعَلَ شُرَيْحُ بْنُ الْحَارِثِ يَقُولُ لِشُرَيْحٍ: إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِيرَاثٌ فِي كِتَابِ اللهِ، إِنَّمَا هُوَ ابْنُ بِنْتِهَا، فَقَضَى شُرَيْحٌ بِمِيرَاثِهَا لِابْنِ بِنْتِهَا، وَقَالَ: {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللهِ} [الأحزاب: ٦] فَرَكِبَ مَيْسَرَةُ بْنُ يَزِيدَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ الَّذِي كَانَ مِنْ شُرَيْحٍ، فَكَتَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى شُرَيْحٍ: " أَنَّ مَيْسَرَةَ بْنَ يَزِيدَ ذَكَرَ لِي كَذَا وَكَذَا، وَأَنَّكَ قُلْتَ عِنْدَ ذَلِكَ: {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللهِ} [الأحزاب: ٦]، إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ الْآيَةُ فِي شَأْنِ الْعَصَبَةِ، كَانَ الرَّجُلُ يُعَاقِدُ الرَّجُلَ فَيَقُولُ: تَرِثُنِي وَأَرِثُكَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ تُرِكَ ذَلِكَ "، قَالَ: فَجَاءَ مَيْسَرَةُ بْنُ يَزِيدَ بِالْكِتَابِ إِلَى شُرَيْحٍ فَلَمَّا قَرَأَهُ أَبَى أَنْ يَرُدَّ قَضَاءَهُ، وَقَالَ: " إِنَّمَا أَعْتَقَهَا حِيتَانُ بَطْنِهَا ".عیسیٰ بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بھائی شریح بن حارث کی ایک ام ولد تھی۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی۔ اس کی شادی کر دی گئی۔ اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی اور ام ولد لونڈی فوت ہو گئی۔ راوی فرماتے ہیں کہ شریح بن حارث اور اس لونڈی کے نواسے میں میراث کا جھگڑا پیدا ہو گیا۔ وہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے فیصلہ لونڈی کے نواسے کے حق میں کر دیا اور فرمایا: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [سورة الأنفال: 75] ”اللہ کی کتاب میں بعض رشتہ دار بعض کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں۔“ میسرہ بن یزید نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قاضی شریح رحمہ اللہ کے فیصلے سے آگاہ کیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قاضی شریح رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ میسرہ بن یزید نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ آپ نے یہ آیت ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [سورة الأنفال: 75] تلاوت فرمائی۔ یہ آیت تو عصبات کے متعلق ہے کہ آدمی ایک دوسرے سے معاہدہ کر لیتے تھے کہ تو میرا وارث میں تیرا وارث۔ جب یہ آیت اتری تو یہ سلسلہ چھوڑ دیا گیا تو میسرہ بن یزید، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا خط لے کر قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے۔ انہوں نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا اور فرمایا: اس کو اس کے پیٹ کی مچھلی نے آزاد کیا ہے۔