کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جس نے اجتہاد کیا، پھر اس نے دیکھا کہ اس کا اجتہاد کسی نص، اجماع یا ان کے ہم معنی کسی چیز کے خلاف ہے تو وہ اپنے اور دوسروں کے حق میں اسے رد کر دے۔
حدیث نمبر: 20371
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ - يَعْنِي الدُّولَابِيَّ -، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے دین میں نئی چیز پیدا کی جو اس سے نہیں وہ مردود ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20371
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 20372
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا، فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " أَمَّا بَعْدُ، لَا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالْأَمْسِ رَاجَعْتَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، لَا يُبْطِلُ الْحَقَّ شَيْءٌ، وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ " وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ. وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: " لَا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالْأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، وَإِنَّ الْحَقَّ لَا يُبْطِلُهُ شَيْءٌ، وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط دیا اور کہا: یہ خط سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی جانب سے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی جانب ہے، حمد و ثنا کے بعد! وہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا ہے، آپ نے حق کی جانب رجوع کیا ہے اور حق ہی قدیم ہے، حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی طرف رجوع کرنا باطل میں گزر جانے سے زیادہ بہتر ہے۔
(ب) ابو سفیان کی حدیث میں ہے کہ وہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا، آپ نے اپنے دل سے مشورہ کیا اور حق کی رہنمائی کی گئی، حق قدیم ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی جانب رجوع کرنا باطل میں چلے جانے سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20372
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم برقم 20283»
حدیث نمبر: 20373
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: " مَا مِنْ طِينَةٍ أَهْوَنُ عَلَيَّ فَكًّا، وَمَا مِنْ كِتَابٍ أَيْسَرُ عَلَيَّ رَدًّا مِنْ كِتَابٍ قَضَيْتُ بِهِ، ثُمَّ أَبْصَرْتُ أَنَّ الْحَقَّ فِي غَيْرِهِ، فَفَسَخْتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گارے کا دور کرنا میرے نزدیک زیادہ آسان ہے اور جو فیصلہ کرو اس کو تبدیل کرنا زیادہ آسان ہے، جب میں اس کے خلاف حق کو دیکھتا ہوں۔
«بَابُ مَنِ اجْتَهَدَ مِنَ الْحُكَّامِ ثُمَّ تَغَيَّرَ اجْتِهَادُهُ أَوْ اجْتِهَادُ غَيْرِهِ فِيمَا يَسُوغُ فِيهِ الِاجْتِهَادُ لَمْ يُرَدَّ مَا قَضَى بِهِ»
”حاکم کا اجتہاد کرنا یا اس کے علاوہ کسی دوسرے کا اجتہاد کرنا جائز صورتوں میں پھر اپنے اجتہاد میں تبدیلی کی صورت میں فیصلہ بدلنا جائز نہیں“
«اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى فِي خَطَإِ الْقِبْلَةِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ»
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20373
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20374
وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ⦗٢٠٥⦘ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ الْفَضْلِ الْخَوْلَانِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَشْرَكَ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ فِي الثُّلُثِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَقَدْ قَضَيْتُ عَامَ أَوَّلَ بِغَيْرِ هَذَا، قَالَ: " فَكَيْفَ قَضَيْتُ؟ قَالَ: جَعَلْتَهُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَلَمْ تَجْعَلْ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ شَيْئًا، قَالَ: " تِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا، وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا ".
حافظ ثناء اللہ
حکم بن مسعود ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے حقیقی بھائی کے ساتھ علاتی بھائی کو تیسرے حصے میں شریک کیا تو ایک آدمی نے کہا: اس سے پہلے سال اس کے الٹ فیصلہ فرمایا تھا۔ انہوں نے پوچھا: میں نے کیا فیصلہ کیا تھا؟ اس نے کہا: حقیقی بھائی کو حصہ دیا تھا اور علاتی کو کچھ بھی نہ دیا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ ویسے ہی ہے جیسا ہم نے فیصلہ کیا تھا اور یہ اپنی جگہ پر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20374
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20375
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: " لَوْ كَانَ عَلِيٌّ طَاعِنًا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ لطَعَنَ عَلَيْهِ يَوْمَ أَتَاهُ أَهْلُ نَجْرَانَ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ الْكِتَابَ بَيْنَ أَهْلِ نَجْرَانَ وَبَيْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَثُرُوا فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى خَافَهُمْ عَلَى النَّاسِ، فَوَقَعَ بَيْنَهَمُ الِاخْتِلَافُ، فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلُوهُ الْبَدَلَ فَأَبْدَلَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ نَدِمُوا، وَوَضَعَ بَيْنَهُمْ شَيئًا فَأَبَوْهُ فَاسْتَقَالُوهُ فَأَبَى أَنْ يُقِيلَهُمْ فَلَمَّا وَلِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ شَفَاعَتُكَ بِلِسَانِكَ وَخَطُّكَ بِيَمِينِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَيْحَكُمْ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَشِيدَ الْأَمْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں کہ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر طعن کرتے تو اس دن کرتے جب ان کے پاس اہل نجران آئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نجران اور نبی ﷺ کے درمیان خط و کتابت کی تھی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں (ان کی تعداد) زیادہ ہو گئی، وہ لوگوں سے ڈر گئے اور ان کے درمیان اختلاف واقع ہو گیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور تبدیلی کا مطالبہ کر دیا تو انہوں نے ان کے کہنے کی بنا پر تبدیلی کر دی، پھر وہ نادم ہوئے یا ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا، پھر انہوں نے بات کی تبدیلی چاہی لیکن انکار کر دیا گیا، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین بنے تو وہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! آپ کی زبان میں شفا اور آپ کے ہاتھ کا خط، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تمہاری بربادی! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ معاملہ فہم انسان تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20375
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَّامٍ - نَيْسَابُورِيٌّ -، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ صَالِحًا الْمُرَادِيَّ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُنْتُ قَرِيبًا مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ جَاءَهُ أَهْلُ نَجْرَانَ قَالَ: قُلْتُ: إِنْ كَانَ رَادًّا عَلَى عُمَرَ شَيْئًا فَالْيَوْمَ، قَالَ: فَسَلَّمُوا وَاصْطَفُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ بَعْضُهُمْ يَدَهُ فِي كُمِّهِ فَأَخْرَجَ كِتَابًا فَوَضَعَهُ فِي يَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، خَطُّكُ بِيَمِينِكَ وَإِمْلَاءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ، قَالَ: فَرَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ جَرَتِ الدُّمُوعُ عَلَى خَدِّهِ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " يَا أَهْلَ نَجْرَانَ إِنَّ هَذَا لَآخِرُ كِتَابٍ كَتَبْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالُوا: فَأَعْطِنَا مَا فِيهِ، قَالَ: " سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَاكَ، إِنَّ الَّذِي أَخَذَ مِنْكُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَأْخُذْهُ لِنَفْسِهِ، إِنَّمَا أَخَذَهُ لِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ الَّذِي أَخَذَ مِنْكُمْ خَيْرًا مِمَّا أَعْطَاكُمْ، وَاللهِ لَا أَرُدُّ شَيْئًا مِمَّا صَنَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَشِيدَ الْأَمْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد خیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب تھا۔ جب اہل نجران آئے تو میں نے کہا: اگر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی چیز رد کرنا چاہیں تو آج کا دن ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے سلام کہا اور ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ پھر اپنی آستین میں ہاتھ ڈال کر خط نکالا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر رکھ دیا اور فرمایا: آپ کے ہاتھ کا خط جو رسول اللہ ﷺ نے لکھوایا تھا۔ راوی فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پھر ان کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا: یہ آخری خط ہے جو میں نے نبی ﷺ کے سامنے تحریر کیا تھا۔ انہوں نے کہا: جو کچھ اس میں ہے ہمیں عطا کرو۔ فرمایا: عنقریب میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ لیا اپنے لیے نہیں مسلمانوں کے لیے وصول کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو تم سے مال وصول کیا، وہ اس کے عوض تھا جو تمہیں عطا کیا، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا میں واپس نہیں کر سکتا؛ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ معاملہ فہم انسان تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20376
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20377
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ ⦗٢٠٦⦘ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ خَرَشَةَ الْكِلَابِيَّ، قَالَ لَهُ بَنُو عَمِّهِ، وَبَنُو عَمِّ امْرَأَتِهِ: إِنَّ امْرَأَتَكَ لَا تُحِبُّكَ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَعْلَمَ ذَلِكَ، فَخَيِّرْهَا، فَقَالَ: يَا بَرْزَةَ بِنْتَ الْحُرِّ اخْتَارِي، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ اخْتَرْتُ، وَلَسْتَ بِخِيَارٍ، قَالَتْ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالُوا: حَرُمَتْ عَلَيْكَ، فَقَالَ: كَذَبْتُمْ، فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " لَئِنْ قَرَبْتَهَا حَتَّى تُنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ لَأُغُيِّبَنَكَ بِالْحِجَارَةِ "، أَوْ قَالَ: " أَرْضَخُكَ بِالْحِجَارَةِ "، قَالَ: فلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا تُرَابٍ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: قَدْ أَجَزْنَا قَضَاءَهُ عَلَيْكَ، أَوْ قَالَ: مَا كُنَّا لَنَرُدُ قَضَاءً قَضَاهُ عَلَيْكَ.
حافظ ثناء اللہ
عباس بن خرشہ کلابی سے ان کے چچاؤں کے بیٹے اور ان کی بیوی کے چچاؤں کے بیٹے نے کہا: تیری عورت تجھ سے محبت نہیں کرتی، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو اس کو اختیار دے دو۔ اس نے اپنی بیوی برزہ بنت حر کو اختیار دے دیا۔ وہ کہنے لگی: تجھ پر افسوس! میں نے اپنا اختیار استعمال کر لیا، لیکن اب آپ کو اختیار نہیں۔ اس نے یہ تین بار کہہ دیا۔ انہوں نے کہا: یہ تیرے اوپر حرام ہو گئی۔ وہ کہنے لگے: تم جھوٹ بولتے ہو۔ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر تذکرہ کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے پاس گیا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس وجہ سے میرے اور میری بیوی کے درمیان تفریق کروا دی تھی، انہوں نے کہا: ہم نے بھی وہی فیصلہ باقی رکھا یا فرمایا: ہم ان کے فیصلے میں تبدیلی نہ کریں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20377
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»