حدیث نمبر: 20376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَّامٍ - نَيْسَابُورِيٌّ -، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ صَالِحًا الْمُرَادِيَّ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُنْتُ قَرِيبًا مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ جَاءَهُ أَهْلُ نَجْرَانَ قَالَ: قُلْتُ: إِنْ كَانَ رَادًّا عَلَى عُمَرَ شَيْئًا فَالْيَوْمَ، قَالَ: فَسَلَّمُوا وَاصْطَفُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ بَعْضُهُمْ يَدَهُ فِي كُمِّهِ فَأَخْرَجَ كِتَابًا فَوَضَعَهُ فِي يَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، خَطُّكُ بِيَمِينِكَ وَإِمْلَاءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ، قَالَ: فَرَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ جَرَتِ الدُّمُوعُ عَلَى خَدِّهِ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " يَا أَهْلَ نَجْرَانَ إِنَّ هَذَا لَآخِرُ كِتَابٍ كَتَبْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالُوا: فَأَعْطِنَا مَا فِيهِ، قَالَ: " سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَاكَ، إِنَّ الَّذِي أَخَذَ مِنْكُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمْ يَأْخُذْهُ لِنَفْسِهِ، إِنَّمَا أَخَذَهُ لِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ الَّذِي أَخَذَ مِنْكُمْ خَيْرًا مِمَّا أَعْطَاكُمْ، وَاللهِ لَا أَرُدُّ شَيْئًا مِمَّا صَنَعَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَشِيدَ الْأَمْرِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبد خیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب تھا۔ جب اہل نجران آئے تو میں نے کہا: اگر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی چیز رد کرنا چاہیں تو آج کا دن ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے سلام کہا اور ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ پھر اپنی آستین میں ہاتھ ڈال کر خط نکالا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر رکھ دیا اور فرمایا: آپ کے ہاتھ کا خط جو رسول اللہ ﷺ نے لکھوایا تھا۔ راوی فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پھر ان کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا: یہ آخری خط ہے جو میں نے نبی ﷺ کے سامنے تحریر کیا تھا۔ انہوں نے کہا: جو کچھ اس میں ہے ہمیں عطا کرو۔ فرمایا: عنقریب میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ لیا اپنے لیے نہیں مسلمانوں کے لیے وصول کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو تم سے مال وصول کیا، وہ اس کے عوض تھا جو تمہیں عطا کیا، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا میں واپس نہیں کر سکتا؛ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ معاملہ فہم انسان تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20376
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»