حدیث نمبر: 20375
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: " لَوْ كَانَ عَلِيٌّ طَاعِنًا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ لطَعَنَ عَلَيْهِ يَوْمَ أَتَاهُ أَهْلُ نَجْرَانَ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ الْكِتَابَ بَيْنَ أَهْلِ نَجْرَانَ وَبَيْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَثُرُوا فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى خَافَهُمْ عَلَى النَّاسِ، فَوَقَعَ بَيْنَهَمُ الِاخْتِلَافُ، فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلُوهُ الْبَدَلَ فَأَبْدَلَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ نَدِمُوا، وَوَضَعَ بَيْنَهُمْ شَيئًا فَأَبَوْهُ فَاسْتَقَالُوهُ فَأَبَى أَنْ يُقِيلَهُمْ فَلَمَّا وَلِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ شَفَاعَتُكَ بِلِسَانِكَ وَخَطُّكَ بِيَمِينِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَيْحَكُمْ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَشِيدَ الْأَمْرِ ".
حافظ ثناء اللہ

سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں کہ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر طعن کرتے تو اس دن کرتے جب ان کے پاس اہل نجران آئے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نجران اور نبی ﷺ کے درمیان خط و کتابت کی تھی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں (ان کی تعداد) زیادہ ہو گئی، وہ لوگوں سے ڈر گئے اور ان کے درمیان اختلاف واقع ہو گیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور تبدیلی کا مطالبہ کر دیا تو انہوں نے ان کے کہنے کی بنا پر تبدیلی کر دی، پھر وہ نادم ہوئے یا ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا، پھر انہوں نے بات کی تبدیلی چاہی لیکن انکار کر دیا گیا، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین بنے تو وہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! آپ کی زبان میں شفا اور آپ کے ہاتھ کا خط، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تمہاری بربادی! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ معاملہ فہم انسان تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20375
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»