حدیث نمبر: 20374
وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ⦗٢٠٥⦘ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ الْفَضْلِ الْخَوْلَانِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَشْرَكَ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ فِي الثُّلُثِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَقَدْ قَضَيْتُ عَامَ أَوَّلَ بِغَيْرِ هَذَا، قَالَ: " فَكَيْفَ قَضَيْتُ؟ قَالَ: جَعَلْتَهُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَلَمْ تَجْعَلْ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ شَيْئًا، قَالَ: " تِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا، وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا ".
حافظ ثناء اللہ

حکم بن مسعود ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے حقیقی بھائی کے ساتھ علاتی بھائی کو تیسرے حصے میں شریک کیا تو ایک آدمی نے کہا: اس سے پہلے سال اس کے الٹ فیصلہ فرمایا تھا۔ انہوں نے پوچھا: میں نے کیا فیصلہ کیا تھا؟ اس نے کہا: حقیقی بھائی کو حصہ دیا تھا اور علاتی کو کچھ بھی نہ دیا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ ویسے ہی ہے جیسا ہم نے فیصلہ کیا تھا اور یہ اپنی جگہ پر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20374
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»