حدیث نمبر: 20373
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: " مَا مِنْ طِينَةٍ أَهْوَنُ عَلَيَّ فَكًّا، وَمَا مِنْ كِتَابٍ أَيْسَرُ عَلَيَّ رَدًّا مِنْ كِتَابٍ قَضَيْتُ بِهِ، ثُمَّ أَبْصَرْتُ أَنَّ الْحَقَّ فِي غَيْرِهِ، فَفَسَخْتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ

عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گارے کا دور کرنا میرے نزدیک زیادہ آسان ہے اور جو فیصلہ کرو اس کو تبدیل کرنا زیادہ آسان ہے، جب میں اس کے خلاف حق کو دیکھتا ہوں۔
«بَابُ مَنِ اجْتَهَدَ مِنَ الْحُكَّامِ ثُمَّ تَغَيَّرَ اجْتِهَادُهُ أَوْ اجْتِهَادُ غَيْرِهِ فِيمَا يَسُوغُ فِيهِ الِاجْتِهَادُ لَمْ يُرَدَّ مَا قَضَى بِهِ»
”حاکم کا اجتہاد کرنا یا اس کے علاوہ کسی دوسرے کا اجتہاد کرنا جائز صورتوں میں پھر اپنے اجتہاد میں تبدیلی کی صورت میں فیصلہ بدلنا جائز نہیں“
«اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى فِي خَطَإِ الْقِبْلَةِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ»

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20373
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»