السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من اجتهد، ثم رأى أن اجتهاده خالف نصا أو إجماعا أو ما في معناه، رده على نفسه، وعلى غيره باب: اس شخص کا بیان جس نے اجتہاد کیا، پھر اس نے دیکھا کہ اس کا اجتہاد کسی نص، اجماع یا ان کے ہم معنی کسی چیز کے خلاف ہے تو وہ اپنے اور دوسروں کے حق میں اسے رد کر دے۔
حدیث نمبر: 20373
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: " مَا مِنْ طِينَةٍ أَهْوَنُ عَلَيَّ فَكًّا، وَمَا مِنْ كِتَابٍ أَيْسَرُ عَلَيَّ رَدًّا مِنْ كِتَابٍ قَضَيْتُ بِهِ، ثُمَّ أَبْصَرْتُ أَنَّ الْحَقَّ فِي غَيْرِهِ، فَفَسَخْتُهُ ".حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گارے کا دور کرنا میرے نزدیک زیادہ آسان ہے اور جو فیصلہ کرو اس کو تبدیل کرنا زیادہ آسان ہے، جب میں اس کے خلاف حق کو دیکھتا ہوں۔
«بَابُ مَنِ اجْتَهَدَ مِنَ الْحُكَّامِ ثُمَّ تَغَيَّرَ اجْتِهَادُهُ أَوْ اجْتِهَادُ غَيْرِهِ فِيمَا يَسُوغُ فِيهِ الِاجْتِهَادُ لَمْ يُرَدَّ مَا قَضَى بِهِ»
”حاکم کا اجتہاد کرنا یا اس کے علاوہ کسی دوسرے کا اجتہاد کرنا جائز صورتوں میں پھر اپنے اجتہاد میں تبدیلی کی صورت میں فیصلہ بدلنا جائز نہیں“
«اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى فِي خَطَإِ الْقِبْلَةِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ»