السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من اجتهد، ثم رأى أن اجتهاده خالف نصا أو إجماعا أو ما في معناه، رده على نفسه، وعلى غيره باب: اس شخص کا بیان جس نے اجتہاد کیا، پھر اس نے دیکھا کہ اس کا اجتہاد کسی نص، اجماع یا ان کے ہم معنی کسی چیز کے خلاف ہے تو وہ اپنے اور دوسروں کے حق میں اسے رد کر دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا، فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " أَمَّا بَعْدُ، لَا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالْأَمْسِ رَاجَعْتَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، لَا يُبْطِلُ الْحَقَّ شَيْءٌ، وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ " وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ. وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: " لَا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالْأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، وَإِنَّ الْحَقَّ لَا يُبْطِلُهُ شَيْءٌ، وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ ".ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط دیا اور کہا: یہ خط سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی جانب سے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی جانب ہے، حمد و ثنا کے بعد! وہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا ہے، آپ نے حق کی جانب رجوع کیا ہے اور حق ہی قدیم ہے، حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی طرف رجوع کرنا باطل میں گزر جانے سے زیادہ بہتر ہے۔
(ب) ابو سفیان کی حدیث میں ہے کہ وہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا، آپ نے اپنے دل سے مشورہ کیا اور حق کی رہنمائی کی گئی، حق قدیم ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی جانب رجوع کرنا باطل میں چلے جانے سے بہتر ہے۔