السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: إثم من أفتى، أو قضى بالجهل باب: جہالت کی بنیاد پر فتویٰ دینے یا فیصلہ کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 20358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عنِ ابنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الرَّأْيَ إِنَّمَا كَانَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصِيبًا، لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ يُرِيهِ، إِنَّمَا هُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّكَلُّفُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، الرَّأْيَ الَّذِي لَا يَكُونُ مُشْبِهًا بِأَصْلٍ، وَفِي مَعْنَاهُ وَرَدَ مَا رُوِيَ عَنْهُ وَعَنْ غَيْرِهِ فِي ذَمِّ الرَّأْيِ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَكْثَرِهِمُ اجْتِهَادَ الرَّأْيِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِ النَّصِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے: اے لوگو! درست رائے تو رسول اللہ ﷺ کی تھی؛ کیونکہ یہ اللہ رب العزت کی جانب سے تھی، ہماری جانب سے تو گمان اور تکلف ہی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہاں ان کی مراد یہ ہے کہ رائے اصل کے مشابہ نہیں ہوتی، جب نص موجود نہ ہو تو اجتہاد کیا جاتا ہے۔