السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: إثم من أفتى، أو قضى بالجهل باب: جہالت کی بنیاد پر فتویٰ دینے یا فیصلہ کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: فَاثْنَانِ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، فَأَمَّا اللَّذَانِ فِي النَّارِ: فَرَجُلٌ جَارَ عَنِ الْحَقِّ مُتَعَمِّدًا، وَرَجُلٌ اجْتَهَدَ رَأْيَهُ فَأَخْطَأَ، وَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ، فَرَجُلٌ اجْتَهَدَ رَأْيَهُ فِي الْحَقِّ فَأَصَابَ "، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ: " مَا بَالُ هَذَا الَّذِي اجْتَهَدَ رَأْيَهُ فِي الْحَقِّ فَأَخْطَأَ؟ " قَالَ: " لَوْ شَاءَ لَمْ يَجْلِسْ يَقْضِي، وَهُوَ لَا يُحْسِنُ يَقْضِي ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " تَفْسِيرُ أَبِي الْعَالِيَةِ عَلَى مَنْ لَمْ يُحْسِنْ يَقْضِي، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْخَبَرَ وَرَدَ فِيمَنِ اجْتَهَدَ رَأْيَهُ وَهُوَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ فَأَخْطَأَ، فِيمَا يَسُوغُ فِيهِ الِاجْتِهَادُ، رُفِعَ عَنْهُ خَطَؤُهُ، إِنْ شَاءَ اللهُ، بِحُكْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَذَلِكَ يَرِدُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”قاضی کی تین قسمیں ہیں؛ دو قسم کے جہنم میں اور ایک قاضی جنت میں جائے گا: (1) جان بوجھ کر حق سے اعراض کرنے والا اور (2) اجتہاد میں غلطی کرنے والا، یہ دونوں جہنمی ہیں، (3) حق میں اجتہاد کی سعی کرنے والا جنتی ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے کہا: اس کا کیا قصور جو حق کے لیے کوشش کرتا ہے لیکن غلطی کر جاتا ہے؟ فرمایا: اگر وہ چاہے تو فیصلے کے لیے نہ بیٹھے، کیونکہ وہ اچھا فیصلہ نہیں کر پاتا۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوالعالیہ رحمہ اللہ کی دلیل کا تقاضا ہے کہ جو اہل اجتہاد میں سے نہیں لیکن پھر بھی اجتہاد کی کوشش کرتا ہے (وہ پکڑا جائے گا)، لیکن وہ جو اہل اجتہاد میں سے ہو پھر غلطی کر گیا اس کو معافی مل جائے گی، نبی ﷺ کے حکم کے ذریعے جیسے سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی احادیث میں منقول ہے۔