السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: إثم من أفتى، أو قضى بالجهل باب: جہالت کی بنیاد پر فتویٰ دینے یا فیصلہ کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 20359
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ عُقْبَةُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " وَيْلٌ لِدَيَّانِ مَنْ فِي الْأَرْضِ مِنْ دَيَّانِ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ، إِلَّا مَنْ أَمَّ الْعَدْلَ، وَقَضَى بِالْحَقِّ، وَلَمْ يَقْضِ عَلَى هَوًى، وَلَا عَلَى قَرَابَةٍ، وَلَا عَلَى رَغَبٍ، وَلَا عَلَى رَهَبٍ، وَجَعَلَ كِتَابَ اللهِ مَرْآةً بَيْنَ عَيْنَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن غنم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: زمین کے قاضیوں کے لیے اس ذات کی جانب سے ہلاکت ہے جو آسمانوں میں ہے، قیامت کے دن حساب لینے والی (ذات کے سامنے) صرف عدل کرنے والے محفوظ رہیں گے، جنہوں نے حق کا فیصلہ کیا اور خواہش، قرابت داری، طمع اور ڈر کو آڑے نہ آنے دیا اور کتاب اللہ کو اپنے سامنے شیشے کی طرح رکھا۔