کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جہالت کی بنیاد پر فتویٰ دینے یا فیصلہ کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 20352
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا، يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ، ⦗١٩٩⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ علم کو قبض نہیں کرتا، بلکہ علماء کو قبض کر لیتا ہے۔ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا، لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
حدیث نمبر: 20353
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ رَضِيعِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ وَكَانَ امْرَأَ صِدْقٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ، وَمَنْ أَفْتَى بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ، وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ، فَقَدْ خَانَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے ذمے وہ بات لگائی جو میں نے کہی نہیں وہ اپنا گھر جہنم میں بنا لے۔ جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا اس کا گناہ اس پر ہے، جس نے اپنے بھائی کو غلط مشورہ دیا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ درست بات کچھ اور ہے اس نے خیانت کی۔“
حدیث نمبر: 20354
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو هَاشِمٍ، قَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: اثْنَانِ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ: رَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ قَضَى بَيْنَ النَّاسِ بِالْجَهْلِ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فَهُوَ فِي النَّارِ ". لَقُلْنَا: إِنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " اجْتِهَادُهُ بِغَيْرِ عَلِمٍ لَا يَهْدِيهِ إِلَى الْحَقِّ إِلَّا اتِّفَاقًا، فَلَمْ يَكُنْ مَأْذُونًا لَهُ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاضی تین قسم کے ہیں: دو جہنمی اور ایک جنتی ہے؛ (1) حق کو پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کرنے والا، یہ جنتی ہے۔ (2) لوگوں کے درمیان جہالت کی بنا پر فیصلہ کرنے والا، وہ جہنمی ہے۔ (3) حق کو پہچان کر ظلم کرتا ہے، یہ بھی جہنمی ہے۔“ ہم نے کہا: جب قاضی کوشش کرتا ہے تو پھر اس پر کوئی حرج نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: بغیر علم کے اجتہاد حق تک نہیں پہنچاتا، اتفاقی طور پر ممکن ہے لیکن اس میں اس کو اجازت نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: بغیر علم کے اجتہاد حق تک نہیں پہنچاتا، اتفاقی طور پر ممکن ہے لیکن اس میں اس کو اجازت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20355
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عنِ ابنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: قَاضِيَانِ فِي النَّارِ، وَقَاضٍ فِي الْجَنَّةِ، قَاضٍ قَضَى بِغَيْرِ الْحَقِّ، وَهُوَ يَعْلَمُ، فَذَاكَ فِي النَّارِ، وَقَاضٍ قَضَى وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَأَهْلَكَ حُقُوقَ النَّاسِ، فَذَاكَ فِي النَّارِ، وَقَاضٍ قَضَى بِالْحَقِّ فَذَاكَ فِي الْجَنَّةِ ". ⦗٢٠٠⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن ابی بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاضی تین قسم کے ہیں، دو قاضی جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا: 1۔ جان بوجھ کر ناحق فیصلہ کرنے والا جہنمی ہے، 2۔ جہالت کی بنا پر غلط فیصلہ کرتا ہے، لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتا، یہ بھی جہنمی ہے، 3۔ درست فیصلہ کرنے والا جنتی ہے۔“
حدیث نمبر: 20356
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ شَرِيكٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 20357
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: فَاثْنَانِ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ، فَأَمَّا اللَّذَانِ فِي النَّارِ: فَرَجُلٌ جَارَ عَنِ الْحَقِّ مُتَعَمِّدًا، وَرَجُلٌ اجْتَهَدَ رَأْيَهُ فَأَخْطَأَ، وَأَمَّا الَّذِي فِي الْجَنَّةِ، فَرَجُلٌ اجْتَهَدَ رَأْيَهُ فِي الْحَقِّ فَأَصَابَ "، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ: " مَا بَالُ هَذَا الَّذِي اجْتَهَدَ رَأْيَهُ فِي الْحَقِّ فَأَخْطَأَ؟ " قَالَ: " لَوْ شَاءَ لَمْ يَجْلِسْ يَقْضِي، وَهُوَ لَا يُحْسِنُ يَقْضِي ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " تَفْسِيرُ أَبِي الْعَالِيَةِ عَلَى مَنْ لَمْ يُحْسِنْ يَقْضِي، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْخَبَرَ وَرَدَ فِيمَنِ اجْتَهَدَ رَأْيَهُ وَهُوَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ فَأَخْطَأَ، فِيمَا يَسُوغُ فِيهِ الِاجْتِهَادُ، رُفِعَ عَنْهُ خَطَؤُهُ، إِنْ شَاءَ اللهُ، بِحُكْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَذَلِكَ يَرِدُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”قاضی کی تین قسمیں ہیں؛ دو قسم کے جہنم میں اور ایک قاضی جنت میں جائے گا: (1) جان بوجھ کر حق سے اعراض کرنے والا اور (2) اجتہاد میں غلطی کرنے والا، یہ دونوں جہنمی ہیں، (3) حق میں اجتہاد کی سعی کرنے والا جنتی ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے کہا: اس کا کیا قصور جو حق کے لیے کوشش کرتا ہے لیکن غلطی کر جاتا ہے؟ فرمایا: اگر وہ چاہے تو فیصلے کے لیے نہ بیٹھے، کیونکہ وہ اچھا فیصلہ نہیں کر پاتا۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوالعالیہ رحمہ اللہ کی دلیل کا تقاضا ہے کہ جو اہل اجتہاد میں سے نہیں لیکن پھر بھی اجتہاد کی کوشش کرتا ہے (وہ پکڑا جائے گا)، لیکن وہ جو اہل اجتہاد میں سے ہو پھر غلطی کر گیا اس کو معافی مل جائے گی، نبی ﷺ کے حکم کے ذریعے جیسے سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی احادیث میں منقول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوالعالیہ رحمہ اللہ کی دلیل کا تقاضا ہے کہ جو اہل اجتہاد میں سے نہیں لیکن پھر بھی اجتہاد کی کوشش کرتا ہے (وہ پکڑا جائے گا)، لیکن وہ جو اہل اجتہاد میں سے ہو پھر غلطی کر گیا اس کو معافی مل جائے گی، نبی ﷺ کے حکم کے ذریعے جیسے سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی احادیث میں منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عنِ ابنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الرَّأْيَ إِنَّمَا كَانَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصِيبًا، لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ يُرِيهِ، إِنَّمَا هُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّكَلُّفُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، الرَّأْيَ الَّذِي لَا يَكُونُ مُشْبِهًا بِأَصْلٍ، وَفِي مَعْنَاهُ وَرَدَ مَا رُوِيَ عَنْهُ وَعَنْ غَيْرِهِ فِي ذَمِّ الرَّأْيِ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَكْثَرِهِمُ اجْتِهَادَ الرَّأْيِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِ النَّصِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے: اے لوگو! درست رائے تو رسول اللہ ﷺ کی تھی؛ کیونکہ یہ اللہ رب العزت کی جانب سے تھی، ہماری جانب سے تو گمان اور تکلف ہی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہاں ان کی مراد یہ ہے کہ رائے اصل کے مشابہ نہیں ہوتی، جب نص موجود نہ ہو تو اجتہاد کیا جاتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہاں ان کی مراد یہ ہے کہ رائے اصل کے مشابہ نہیں ہوتی، جب نص موجود نہ ہو تو اجتہاد کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 20359
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ عُقْبَةُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " وَيْلٌ لِدَيَّانِ مَنْ فِي الْأَرْضِ مِنْ دَيَّانِ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ، إِلَّا مَنْ أَمَّ الْعَدْلَ، وَقَضَى بِالْحَقِّ، وَلَمْ يَقْضِ عَلَى هَوًى، وَلَا عَلَى قَرَابَةٍ، وَلَا عَلَى رَغَبٍ، وَلَا عَلَى رَهَبٍ، وَجَعَلَ كِتَابَ اللهِ مَرْآةً بَيْنَ عَيْنَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن غنم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: زمین کے قاضیوں کے لیے اس ذات کی جانب سے ہلاکت ہے جو آسمانوں میں ہے، قیامت کے دن حساب لینے والی (ذات کے سامنے) صرف عدل کرنے والے محفوظ رہیں گے، جنہوں نے حق کا فیصلہ کیا اور خواہش، قرابت داری، طمع اور ڈر کو آڑے نہ آنے دیا اور کتاب اللہ کو اپنے سامنے شیشے کی طرح رکھا۔
حدیث نمبر: 20360
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْغَطْرِيفِيُّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُعْبَةَ، ثنا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى عَلَى قَاضٍ، فَقَالَ لَهُ: " هَلْ تَعْلَمُ النَّاسِخَ ⦗٢٠١⦘ مِنَ الْمَنْسُوخِ "، قَالَ: " لَا "، قَالَ: " هَلَكْتَ، وَأَهْلَكْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک قاضی کے پاس آئے اور پوچھا: «النَّاسِخَ وَالْمَنْسُوخَ» ”ناسخ و منسوخ“ کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ» ”تو خود بھی ہلاک ہوا اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔“
حدیث نمبر: 20361
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ قَاضِيًا حَتَّى يَكُونَ فِيهِ خَمْسُ خِصَالٍ، فَإِنْ أَخْطَأَتْهُ وَاحِدَةٌ كَانَتْ فِيهِ وَصْمَةٌ وَإِنْ أَخْطَأَتْهُ اثْنَتَانِ كَانَتْ فِيهِ وَصْمَتَانِ: حَتَّى يَكُونَ عَالِمًا بِمَا كَانَ قَبْلَهُ، مُسْتَشِيرًا لِذِي الرَّأْيِ، ذَا نَزَاهَةٍ عَنِ الطَّمَعِ، حَلِيمًا عَنِ الْخَصْمِ،، مُحْتَمِلًا لِلْأَثَمَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: پانچ خوبیوں کے بغیر انسان کے لیے قاضی بننا درست نہیں؛ اگر ان میں سے ایک خوبی نہ ہو تو وہ ایک عیب ہے اور اگر دو خوبیاں نہ ہوں تو وہ دو عیب ہیں۔ (وہ پانچ خوبیاں یہ ہیں:) اپنے سے پہلے والوں کے بارے میں جانتا ہو، عقلمندوں سے مشورہ لیتا ہو، لالچ سے دور رہتا ہو، جھگڑے میں بردباری کا مظاہرہ کرے اور ائمہ سے دریافت کرنے والا ہو۔