السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20350
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ غُطَيْفٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ} [التوبة: ٣١] "، قَالَ: قُلْتَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ قَالَ: " أَجَلْ، وَلَكِنْ يُحِلُّونَ لَهُمْ مَا حَرَّمَ اللهُ، فَيَسْتَحِلُّونَهُ، وَيُحَرِّمُونَ عَلَيْهِمْ مَا أَحَلَّ اللهُ، فَيُحَرِّمُونَهُ، فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ لَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے: ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 31] ”انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علما اور راہبوں کو رب بنا لیا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ان کی عبادت نہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جس کو اللہ نے ان کے لیے حرام قرار دیا، اور وہ ان پر حرام قرار دیتے جو اللہ نے ان کے لیے حلال قرار دیا، یہی ان کی عبادت تھی۔“