السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20351
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: " {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونَ اللهِ} [التوبة: ٣١]، أَكَانُوا يُصَلُّونَ لَهُمْ؟ " قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا يُحِلُّونَ لَهُمْ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِمْ، فَيَسْتَحِلُّونَهُ، وَيُحَرِّمُونَ عَلَيْهِمْ مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُمْ، فَيُحَرِّمُونَهُ، فَصَارُوا بِذَلِكَ أَرْبَابًا ". لَفْظُ حَدِيثِ زَائِدَةَ.حافظ ثناء اللہ
ابوبختری فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 31] ”انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کو چھوڑ کر رب بنا لیا“ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ ان کے لیے نماز پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں۔ لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جو اللہ نے ان پر حرام کر دیا اور حرام قرار دیتے جو اللہ نے ان پر حلال قرار دے دیا۔ اس وجہ سے وہ رب بن گئے۔