السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالُ: " أَلَا لَا يُقَلِّدَنَّ رَجُلٌ رَجُلًا دِينَهُ، فَإِنْ آمَنَ آمَنَ، وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ، فَإِنْ كَانَ مُقَلِّدًا - لَا مَحَالَةَ - فَلْيُقَلِّدِ الْمَيِّتَ، وَيَتْرُكَ الْحِيَّ، فَإِنَّ الْحِيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ ".حافظ ثناء اللہ
عبدہ بن ابی لبابہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: کوئی آدمی دین میں کسی کی تقلید نہ کرے کہ اگر وہ ایمان لائے تو دوسرا بھی ایمان لے آئے اور اگر وہ کفر کرے تو وہ بھی کفر کرے۔ اگر کوئی تقلید کرنا چاہے تو مردہ لوگوں کی تقلید کرو اور زندہ کو چھوڑ دو؛ کیونکہ یہ فتنے سے محفوظ نہیں ہیں۔