کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20335
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ} [النساء: 59] يَعْنِي - وَاللهُ أَعْلَمُ: هُمْ وَأُمَرَاؤُهُمُ الَّذِينَ أُمِرُوا بِطَاعَتِهِمْ، {فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ} [النساء: 59] يَعْنِي - وَاللهُ أَعْلَمُ: إِلَى مَا قَالَ اللهُ وَالرَّسُولُ "، وَقَالَ {أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى} [القيامة: 36] قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَلَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ فِيمَا عَلِمْتُ أَنَّ السُّدَى: الَّذِي لَا يُؤْمَرُ وَلَا يُنْهَى، وَمَنْ أَفْتَى أَوْ حَكَمَ بِمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ، فَقَدْ أَجَازَ لِنَفْسِهِ أَنْ يَكُونَ فِي مَعَانِي السُّدَى، قَالَ الشَّيْخُ: " وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ الْآيَتَيْنِ بِنَحْوِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ﴾ ”پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو“ [سورة النساء: 59] اس کا مطلب ہے، واللہ اعلم: وہ (لوگ) اور ان کے وہ امراء جن کی اطاعت کا انہیں حکم دیا گیا ہے، ﴿فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ﴾ ”تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو“ [سورة النساء: 59] اس کا مطلب ہے، واللہ اعلم: اس بات کی طرف جو اللہ اور رسول نے فرمائی ہے۔“
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى﴾ ”کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے یوں ہی بے کار چھوڑ دیا جائے گا؟“ [سورة القيامة: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میرے علم کے مطابق اہل علم بالقرآن میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ”سُدًى“ وہ ہے جسے نہ کسی بات کا حکم دیا جائے اور نہ کسی بات سے منع کیا جائے، اور جس نے ایسی بات کا فتویٰ دیا یا ایسا فیصلہ کیا جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا، تو اس نے اپنے لیے یہ جائز کر لیا کہ وہ ”سُدًى“ (بے کار چھوڑے ہوئے) کے معنی میں داخل ہو جائے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں امام مجاہد رحمہ اللہ سے ان دونوں آیتوں کی تفسیر میں اسی طرح کی بات روایت پہنچی ہے جیسی امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔“
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى﴾ ”کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے یوں ہی بے کار چھوڑ دیا جائے گا؟“ [سورة القيامة: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میرے علم کے مطابق اہل علم بالقرآن میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ”سُدًى“ وہ ہے جسے نہ کسی بات کا حکم دیا جائے اور نہ کسی بات سے منع کیا جائے، اور جس نے ایسی بات کا فتویٰ دیا یا ایسا فیصلہ کیا جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا، تو اس نے اپنے لیے یہ جائز کر لیا کہ وہ ”سُدًى“ (بے کار چھوڑے ہوئے) کے معنی میں داخل ہو جائے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں امام مجاہد رحمہ اللہ سے ان دونوں آیتوں کی تفسیر میں اسی طرح کی بات روایت پہنچی ہے جیسی امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔“
حدیث نمبر: 20335
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي: ابْنَ عَوْنٍ، وَيَعْلَى: يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَهُ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ، فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَاسْتَمْسِكُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَخُذُوا بِهِ " فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ، وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " وَأَهْلُ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ تَعَالَى فِي أَهْلِ بَيْتِي "، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن حیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”اے لوگو! میں انسان ہوں۔ قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اس کی بات کو قبول کرلوں (مراد موت)۔ میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں: پہلی اللہ کی کتاب، اس میں ہدایت اور نور ہے۔ تم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔“ پھر آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب کی ترغیب دی اور ابھارا۔ پھر فرمایا: ”دوسری میرے اہل بیت ہیں، اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 20336
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عنِ ابنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا ⦗١٩٥⦘ النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا: كِتَابُ اللهِ، وَسُنَّةُ نَبِيِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے اندر وہ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم نے ان کو مضبوطی سے تھامے رکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہوں گے: 1 اللہ کی کتاب 2 اس کے نبی ﷺ کی سنت۔“
حدیث نمبر: 20337
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي قَدْ خَلَّفْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا مَا أَخَذْتُمْ بِهِمَا، أَوْ عَمِلْتُمْ بِهِمَا، كِتَابُ اللهِ، وَسُنَّتِي، وَلَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے اندر وہ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامو گے—یا فرمایا: عمل کرو گے—کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ 1 اللہ کی کتاب 2 میری سنت۔“
”وہ ہرگز متفرق بھی نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ میرے پاس حوض پر آئیں گے۔“
”وہ ہرگز متفرق بھی نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ میرے پاس حوض پر آئیں گے۔“
حدیث نمبر: 20338
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْحَمَامِيِّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَأَوْصِنَا "، قَالَ: " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ الدُّورِيِّ..
حافظ ثناء اللہ
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں ایسا وعظ فرمایا جس سے دل ڈر گئے، آنسو جاری ہو گئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آخری وعظ کی مانند ہے، وصیت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہارا امیر غلام بھی ہو تب بھی اس کی اطاعت کرنا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا۔ جو تم میں سے زندہ رہے گا، وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ تم میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کو تھام لینا۔ بدعات سے بچنا؛ کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“
حدیث نمبر: 20339
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً: عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ: " كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟ " قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللهِ، قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللهِ؟ "، قَالَ: أَقْضِي بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَجِدْهُ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ؟ "، قَالَ: أَجْتَهِدُ بِرَأْيٍ، لَا آلُو، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "..
حافظ ثناء اللہ
مکحول سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب روانہ کیا تو فرمایا: ”کیسے فیصلہ کرو گے جب فیصلہ آیا؟“ کہنے لگے: اللہ کی کتاب سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کی کتاب میں نہ پائے؟“ عرض کیا: رسول اللہ ﷺ کی سنت کے موافق۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو رسول اللہ ﷺ کی سنت میں نہ پائے؟“ تو کہنے لگے: اپنی رائے سے لیکن کچھ کمی نہ کروں گا۔ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر پھیرا اور فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو اس چیز کی توفیق بخشی جس سے رسول اللہ ﷺ خوش ہو گئے۔“
حدیث نمبر: 20340
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
حارث بن عمرو رحمہ اللہ جو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کیا۔ اس کے ہم معنی ہے۔
حدیث نمبر: 20341
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: " كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا وَرَدَ عَلَيْهِ خَصْمٌ نَظَرَ فِي كِتَابِ اللهِ، فَإِنْ وَجَدَ فِيهِ مَا يَقْضِي بِهِ قَضَى بِهِ بَيْنَهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فِي الْكِتَابِ، نَظَرَ: هَلْ كَانَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ سُنَّةٌ؟ فَإِنْ عَلَمِهَا قَضَى بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ خَرَجَ فَسَأَلَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: " أَتَانِي كَذَا وَكَذَا، فَنَظَرْتُ فِي كِتَابِ اللهِ، وَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، فَهَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي ذَلِكَ بِقَضَاءٍ؟ "، فَرُبَّمَا قَامَ إِلَيْهِ الرَّهْطُ فَقَالُوا: " نَعَمْ، قَضَى فِيهِ بِكَذَا وَكَذَا "، فَيَأْخُذُ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ جَعْفَرٌ وَحَدَّثَنِي غَيْرُ مَيْمُونٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِينَا مَنْ يَحْفَظُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَإِنْ أَعْيَاهُ ذَلِكَ دَعَا رُءُوسَ الْمُسْلِمِينَ وَعَلَمَاءَهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى الْأَمْرِ قَضَى بِهِ "، قَالَ جَعْفَرٌ: وَحَدَّثَنِي مَيْمُونٌ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، فَإِنْ أَعْيَا أَنْ يَجِدَ فِي الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ، نَظَرَ: هَلْ كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ قَضَاءٌ؟ فَإِنْ وَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ قَضَى فِيهِ بِقَضَاءٍ قَضَى بِهِ، وَإِلَّا دَعَا رُءُوسَ الْمُسْلِمِينَ وَعُلَمَاءَهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعُوا عَلَى الْأَمْرِ قَضَى بَيْنَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی فیصلہ آتا تو اللہ کی کتاب میں دیکھتے۔ اگر کتاب اللہ میں موجود ہوتا تو اس کے ذریعہ فیصلہ فرما دیتے۔ اگر کتاب اللہ میں نہ پاتے تو پھر نبی ﷺ کی سنت کو دیکھتے۔ اگر جان لیتے تو اس کے مطابق فیصلہ فرماتے۔ اگر معلوم نہ ہوتا تو مسلمانوں کی طرف نکلتے اور فرماتے کہ میرے پاس فلاں فیصلہ آیا ہے، میں نے کتاب اللہ اور سنتِ رسول میں کچھ نہیں پایا، کیا تمہارے علم میں ہے کہ نبی ﷺ نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ کیا ہو؟ بعض دفعہ کوئی جماعت ان کی طرف جاتی اور کہتی کہ ہاں اس بارے میں یہ فیصلہ ہوا تھا تو آپ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کر دیتے۔
جعفر فرماتے ہیں: میمون کے علاوہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت فرماتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے توفیق دی کہ ہم میں سے بعض اس کے نبی ﷺ کے فرمان کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اگر کسی کو یاد نہ ہوتا تو تمام لوگوں کو سامنے بلا کر علماء وغیرہ سے مشورہ کرتے۔ ان کی رائے متفق علیہ ہوتی تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔
(ب) جعفر فرماتے ہیں: حضرت میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کرتے تھے۔ اگر اس کی اصل قرآن و سنت میں پاتے تو ٹھیک وگرنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فیصلہ جات دیکھتے۔ اگر کوئی فیصلہ پاتے تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے، وگرنہ مسلمانوں کے سردار اور علماء سے مشورہ فرما کر اس کے مطابق فیصلہ فرماتے۔
جعفر فرماتے ہیں: میمون کے علاوہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت فرماتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے توفیق دی کہ ہم میں سے بعض اس کے نبی ﷺ کے فرمان کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اگر کسی کو یاد نہ ہوتا تو تمام لوگوں کو سامنے بلا کر علماء وغیرہ سے مشورہ کرتے۔ ان کی رائے متفق علیہ ہوتی تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔
(ب) جعفر فرماتے ہیں: حضرت میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کرتے تھے۔ اگر اس کی اصل قرآن و سنت میں پاتے تو ٹھیک وگرنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فیصلہ جات دیکھتے۔ اگر کوئی فیصلہ پاتے تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے، وگرنہ مسلمانوں کے سردار اور علماء سے مشورہ فرما کر اس کے مطابق فیصلہ فرماتے۔
حدیث نمبر: 20342
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، كُوفِيٌّ،، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنِ فُضَيْلٍ، وَأَسْبَاطٌ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَيْهِ: " إِذَا جَاءَكُمْ أَمْرٌ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاقْضِ بِهِ، وَلَا يَلْفِتَنَّكَ عَنْهُ الرِّجَالُ، فَإِنْ أَتَاكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، فَانْظُرْ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْضِ بِهَا، فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَخُذْ بِهِ، فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ قَبْلَكَ، فَاخْتَرْ أِيَّ الْأَمْرَيْنِ شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْتَهِدَ بِرَأْيِكَ، ثُمَّ تُقَدِّمَ فَتُقَدِّمَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُأَخِّرَ فَتُأَخِّرَ، وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ ". رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا: جب کسی معاملے کا حکم قرآن میں موجود ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرنا، لوگ آپ کو اس سے ہٹا نہ سکیں۔ اگر قرآن میں موجود نہ ہو تو سنتِ رسول ﷺ میں دیکھو، اگر اسے پالو تو اس کے مطابق فیصلہ کر دو۔ اگر قرآن و سنت میں موجود نہ ہو تو جس پر لوگوں کا اجماع ہو اس کے مطابق فیصلہ کر دو۔ اگر قرآن و سنت اور لوگوں کی رائے بھی موجود نہ ہو تو جس معاملے کو پسند کرو؛ اگر آپ چاہیں تو اپنی رائے سے اجتہاد کریں، پھر چاہے فوراً عمل کر لیں یا مؤخر کر دیں، لیکن مؤخر کرنا زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 20343
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُوعَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ لَسْنَا نَقْضِي، وَلَسْنَا هُنَالِكَ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ⦗١٩٧⦘ بَلَّغَنَا مَا تَرَوْنَ، فَمَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْكُمْ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَمْ يَقْضِ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقْضِ بِهِ الصَّالِحُونَ، فَلْيَجْتَهِدْ رَأْيَهُ، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي أَخَافُ، وَإِنِّي أَرَى "، فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ "..
حافظ ثناء اللہ
حریث بن ظہیر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! ہمارے اوپر ایسا دور آیا نہ تو ہم فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی وہاں موجود ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مرتبہ پر پہنچا دیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ آج کے بعد اگر کسی نے فیصلہ کرنا ہو تو کتاب اللہ کے موافق کرے۔ اگر کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو سنتِ رسول ﷺ کے موافق فیصلہ کرنا۔ اگر کتاب و سنت میں موجود نہ ہو تو نیک لوگوں کے فیصلہ جات کو ملحوظِ خاطر رکھو۔ اگر کتاب و سنت اور نیک لوگوں کے فیصلوں میں موجود نہ ہو تو اپنی رائے کا استعمال کریں۔ یہ نہ کہیں کہ میں ڈرتا ہوں یا میرا خیال ہے، ”حلال و حرام واضح ہے۔ اس کے درمیانی امور مشتبہ ہیں۔ شک والی چیز کو چھوڑ دیں اور دوسری کو لے لیں“۔
حدیث نمبر: 20344
وَرَوَاهُ شُعْبَةُ،، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، بِمَعْنَاهُ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقُهُسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 20345
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ، أَنَّهُ قَامَ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالَ: " يَا ابْنَ عَمِّي، أُكْرِهْنَا عَلَى الْقَضَاءِ "، فَقَالَ زَيْدٌ: " اقْضِ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ، فَفِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَادْعُ أَهْلَ الرَّأْيِ، ثُمَّ اجْتَهِدْ وَاخْتَرْ لِنَفْسِكَ، وَلَا حَرَجَ ".
حافظ ثناء اللہ
مسلمہ بن مخلد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے میرے چچا زاد! ہم فیصلوں پر مجبور کر دیے گئے ہیں، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ فرمائیں۔ اگر کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو پھر سنتِ رسول ﷺ کے موافق فیصلہ کرنا، وگرنہ اہل الرائے کو بلا کر مشورہ کریں، پھر اجتہاد کریں اور اپنی رائے کو اختیار کر لیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20346
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ هُوَ فِي كِتَابِ اللهِ قَالَ بِهِ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ وَقَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَقُلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ بِهِ، وَإِلَّا اجْتَهَدَ رَأْيَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، جب ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا اور وہ قرآن میں موجود ہوتی تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے، اگر قرآن میں نہ ہوتی تو سنتِ رسول ﷺ کے موافق فیصلہ فرماتے، وگرنہ اپنا اجتہاد فرماتے۔
حدیث نمبر: 20347
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ: " هَذَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: " الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ فِي صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُغْكَ فِي الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ، فَتَعَرَّفِ الْأَمْثَالَ وَالْأَشْبَاهَ، ثُمَّ قِسِ الْأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ، وَاعْمِدْ إِلَى أَحَبِّهَا إِلَى اللهِ، وَأَشْبَهِهَا فِيمَا تَرَى ".
حافظ ثناء اللہ
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط دیا کہ یہ خط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ہے۔ انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے: سمجھو! خوب سمجھو! جو معاملہ تمہارے دل میں شکوک و شبہات پیدا کر دے اور وہ قرآن و سنت میں بھی موجود نہ ہو تو اس طرح کے معاملات کو پہچاننے کی کوشش کرو، پھر معاملات کو قیاس کر لو اور اس کا قصد کرو جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو اور اس کے زیادہ مشابہ ہو جو تمہاری رائے میں ہے۔
حدیث نمبر: 20348
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي ⦗١٩٨⦘ الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: " كَتَبَ كَاتَبٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هَذَا مَا أَرَى اللهُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ "، فَانْتَهَرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: " لَا، بَلِ اكْتُبْ: " هَذَا مَا رَأَى عُمَرُ "، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنْ عُمَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کاتب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے لکھا: یہ وہ ہے جو اللہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دکھایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ڈانٹا اور فرمایا: لکھو یہ عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے۔ اگر یہ درست ہو تو اللہ کی جانب سے ہے، اگر غلط ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے ہے۔
حدیث نمبر: 20349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالُ: " أَلَا لَا يُقَلِّدَنَّ رَجُلٌ رَجُلًا دِينَهُ، فَإِنْ آمَنَ آمَنَ، وَإِنْ كَفَرَ كَفَرَ، فَإِنْ كَانَ مُقَلِّدًا - لَا مَحَالَةَ - فَلْيُقَلِّدِ الْمَيِّتَ، وَيَتْرُكَ الْحِيَّ، فَإِنَّ الْحِيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدہ بن ابی لبابہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: کوئی آدمی دین میں کسی کی تقلید نہ کرے کہ اگر وہ ایمان لائے تو دوسرا بھی ایمان لے آئے اور اگر وہ کفر کرے تو وہ بھی کفر کرے۔ اگر کوئی تقلید کرنا چاہے تو مردہ لوگوں کی تقلید کرو اور زندہ کو چھوڑ دو؛ کیونکہ یہ فتنے سے محفوظ نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 20350
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ غُطَيْفٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ} [التوبة: ٣١] "، قَالَ: قُلْتَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ قَالَ: " أَجَلْ، وَلَكِنْ يُحِلُّونَ لَهُمْ مَا حَرَّمَ اللهُ، فَيَسْتَحِلُّونَهُ، وَيُحَرِّمُونَ عَلَيْهِمْ مَا أَحَلَّ اللهُ، فَيُحَرِّمُونَهُ، فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ لَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے کی صلیب تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے: ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 31] ”انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علما اور راہبوں کو رب بنا لیا۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ان کی عبادت نہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جس کو اللہ نے ان کے لیے حرام قرار دیا، اور وہ ان پر حرام قرار دیتے جو اللہ نے ان کے لیے حلال قرار دیا، یہی ان کی عبادت تھی۔“
میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ان کی عبادت نہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جس کو اللہ نے ان کے لیے حرام قرار دیا، اور وہ ان پر حرام قرار دیتے جو اللہ نے ان کے لیے حلال قرار دیا، یہی ان کی عبادت تھی۔“
حدیث نمبر: 20351
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: " {اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونَ اللهِ} [التوبة: ٣١]، أَكَانُوا يُصَلُّونَ لَهُمْ؟ " قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا يُحِلُّونَ لَهُمْ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِمْ، فَيَسْتَحِلُّونَهُ، وَيُحَرِّمُونَ عَلَيْهِمْ مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُمْ، فَيُحَرِّمُونَهُ، فَصَارُوا بِذَلِكَ أَرْبَابًا ". لَفْظُ حَدِيثِ زَائِدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبختری فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ [سورة التوبة: 31] ”انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کو چھوڑ کر رب بنا لیا“ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ ان کے لیے نماز پڑھتے تھے؟ فرمایا: نہیں۔ لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جو اللہ نے ان پر حرام کر دیا اور حرام قرار دیتے جو اللہ نے ان پر حلال قرار دے دیا۔ اس وجہ سے وہ رب بن گئے۔