السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20348
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي ⦗١٩٨⦘ الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: " كَتَبَ كَاتَبٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هَذَا مَا أَرَى اللهُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ "، فَانْتَهَرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: " لَا، بَلِ اكْتُبْ: " هَذَا مَا رَأَى عُمَرُ "، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنْ عُمَرَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کاتب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے لکھا: یہ وہ ہے جو اللہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دکھایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ڈانٹا اور فرمایا: لکھو یہ عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے۔ اگر یہ درست ہو تو اللہ کی جانب سے ہے، اگر غلط ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے ہے۔