❮
❯
حدیث نمبر: 20308
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ قَاضِي الْكُوفَةِ وَقَالَ: " الْقَاضِي لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ قَاضِيًا حَتَّى يَكُونَ فِيهِ خَمْسُ خِصَالٍ: عَفِيفٌ، حَلِيمٌ، عَالِمٌ بِمَا كَانَ قَبْلَهُ، يَسْتَشِيرُ ذَوِي الْأَلْبَابِ، لَا يُبَالِي بِمَلَامَةِ النَّاسِ ".
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کوفہ کے قاضی کے بارے میں سوال کیا اور فرمایا: قاضی بننے کے لیے پانچ خوبیاں ہونا ضروری ہیں: (1) پاک دامن، (2) بردبار، (3) اپنے سے پہلے (کے فیصلوں) کا علم رکھنے والا ہو، (4) عقل والوں سے مشورہ لے، (5) لوگوں کی ملامت کی پروا نہ کرے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20308
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»