حدیث نمبر: 20307
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ الْبُخَارِيِّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " الرِّجَالُ ثَلَاثَةٌ: فَرَجُلٌ، وَنِصْفُ رَجُلٍ، وَلَا شَيْءَ، فَأَمَّا الرَّجُلُ التَّامُّ: فَالَّذِي لَهُ رَأْيٌ، وَهُوَ يَسْتَشِيرُ، وَأَمَّا نِصْفُ رَجُلٍ، فَالَّذِي لَيْسَ لَهُ رَأْيٌ، وَهُوَ يَسْتَشِيرُ، وَأَمَّا الَّذِي لَا شَيْءَ، فَالَّذِي لَيْسَ لَهُ رَأْيٌ، وَلَا يَسْتَشِيرُ ".
حافظ ثناء اللہ

داؤد بن ابی ہند، حضرت شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آدمی تین قسم کے ہیں: مکمل آدمی، نصف آدمی اور وہ جو کچھ بھی نہیں۔ مکمل آدمی وہ ہے جس کی اپنی رائے بھی ہو اور مشورہ بھی لے، آدھا آدمی وہ ہے جس کی اپنی رائے تو نہ ہو لیکن مشورہ ضرور لے، اور بے کار وہ آدمی ہے جس میں نہ عقل ہو اور نہ ہی مشورہ طلب کرے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20307
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»