کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حاکم اور قاضی کا معاملات میں مشورہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20300
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: 159].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ ”اور معاملات میں ان سے مشورہ کیا کریں۔“ [سورة آل عمران: 159]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20300
حدیث نمبر: 20300
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ بِنَيْسَابُورَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ بِمِصْرَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: ١٥٩] قَالَ: " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ [سورة آل عمران: 159] یعنی معاملات میں ان سے مشورہ کریں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20300
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20301
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَا: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشِيرُوا عَلَيَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ نَمِيلَ إِلَى ذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَعَانُوهُمْ فَنُصِيبَهُمْ، أَمْ تَرَوْنَ أَنْ نَؤُمَّ الْبَيْتَ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَلَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ، وَلَكِنْ مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَاتَلْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرُوحُوا إِذًا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَكْثَرَ مُشَاوَرَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر، سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے حدیبیہ کا قصہ نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے مشورہ کیا کرو۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم اپنی اولاد کی طرف مائل ہو جائیں گے؟ وہ لوگ جنہوں نے ان کی اعانت کی، ہم ان کو ضرور پالیں گے۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم بیت اللہ کا قصد کریں؟ جس نے ہمیں اس سے روکا ہم اس سے لڑائی کریں گے۔“ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اور رسول ﷺ جانتے ہیں، ہم تو عمرہ کی غرض سے آئے ہیں، قتال کے لیے نہیں آئے، لیکن جو ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا ہم ان سے لڑائی کریں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تب تم چلو۔“
(ب) زہری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سب سے زیادہ اپنے صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20301
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1695، 1811»
حدیث نمبر: 20302
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَارَ إِلَى بَدْرٍ اسْتَشَارَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ⦗١٨٧⦘ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: " إِذًا لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ بدر کو چلے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اور مسلمانوں سے مشورہ کیا۔ پھر دوبارہ ان سے مشورہ کیا تو انصار کہنے لگے: اے انصار کا گروہ! نبی ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ”تب ہم بنو اسرائیل کی طرح نہ کہیں گے جو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: ﴿فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [سورة المائدة: 24] ”تو اور تیرا رب جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔“ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، اگر آپ برک الغماد تک چلیں گے ہم آپ کی اتباع کریں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20302
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1779»
حدیث نمبر: 20303
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحِرَفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ: " مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأَسْرَى؟ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بَنُو الْعَمِّ، وَالْعَشِيرَةُ، وَالْإِخْوَانُ، غَيْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ لِيَكُونَ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَعَسَى اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا "، قَالَ: " فَمَاذَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ " قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهُمْ فَقَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ: فَهَوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ أَنَا، وَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أِيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ، فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِلَّا تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا، قَالَ: " الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، وَشَجَرَةٌ قَرِيبَةٌ حِينَئِذٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [الأنفال: ٦٧] ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیدیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! چچاؤں کے بیٹے، قبیلے کے لوگ، بھائی ہیں۔ ہم ان سے جزیہ لے کر چھوڑ دیں، تاکہ مشرکین کے خلاف قوت حاصل ہوجائے۔ ممکن ہے اللہ ان کو اسلام کی ہدایت نصیب فرما دے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمہارا کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا: جو ابوبکر کا خیال ہے وہ میرا نہیں۔ یہ کفار کے سردار اور امام ہیں۔ ان کی گردنیں مارو۔ لیکن نبی ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ پسند کیا۔ میرے مشورے کی طرف مائل نہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی میں نبی ﷺ کے پاس گیا تو نبی ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے رو رہے تھے۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کس چیز نے رلایا؟ اگر رونے والی بات ہے تو میں بھی رو لیتا ہوں، وگرنہ آپ کے رونے کی وجہ سے رو لیتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مشورہ جو آپ کے ساتھیوں نے دیا، اس کی وجہ سے میرے اوپر عذاب پیش کیا گیا، جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا (اور درخت بہت زیادہ قریب تھا)۔“ تو اللہ نے نازل فرما دیا: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة الأنفال: 67] ”کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں تو خونریزی کیے بغیر چھوڑ دے۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتے ہیں اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20303
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1736»
حدیث نمبر: 20304
أَخَبَرِنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: ١٥٩] قَالَ: " عَلَّمَهُ اللهُ سُبْحَانَهُ أَنَّهُ مَا بِهِ إِلَيْهِمْ مِنْ حَاجَةٍ، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ مَنْ بَعْدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شبرمہ رحمہ اللہ حضرت حسن رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ [سورة آل عمران: 159] ”ان سے معاملے میں مشورہ کیجیے“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے بعد والوں کو تعلیم دی ہے، اس لیے کہ آپ ﷺ کو تو اس کی ضرورت نہ تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20304
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20305
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ حَيٍّ قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَأْخُذَ بِالْوَثِيقَةِ مِنَ الْقَضَاءِ فَلْيَأْخُذْ بِقَضَاءِ عُمَرَ فَإِنَّهُ كَانَ يَسْتَشِيرُ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس کو اچھا لگے کہ وہ قاضی کا عہدہ حاصل کرے تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قضا کا عہدہ حاصل کرے، کیونکہ وہ مشورہ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20305
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 20306
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أنبأ أَشْعَثُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللهِ التَّوَدُّدُ إِلَى ⦗١٨٨⦘ النَّاسِ، وَمَا يَسْتَغْنِي رَجُلٌ عَنْ مَشُورَةٍ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عقل کی بنیاد ایمان کے بعد اللہ کے لیے لوگوں سے محبت کرنا ہے۔ کوئی آدمی مشورہ سے مستغنی نہ ہو۔ دنیا میں بھلائی والے آخرت میں بھی بھلائی والے ہوں گے اور دنیا میں برائی والے آخرت میں بھی برائی والے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20306
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 20307
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ الْبُخَارِيِّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " الرِّجَالُ ثَلَاثَةٌ: فَرَجُلٌ، وَنِصْفُ رَجُلٍ، وَلَا شَيْءَ، فَأَمَّا الرَّجُلُ التَّامُّ: فَالَّذِي لَهُ رَأْيٌ، وَهُوَ يَسْتَشِيرُ، وَأَمَّا نِصْفُ رَجُلٍ، فَالَّذِي لَيْسَ لَهُ رَأْيٌ، وَهُوَ يَسْتَشِيرُ، وَأَمَّا الَّذِي لَا شَيْءَ، فَالَّذِي لَيْسَ لَهُ رَأْيٌ، وَلَا يَسْتَشِيرُ ".
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن ابی ہند، حضرت شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آدمی تین قسم کے ہیں: مکمل آدمی، نصف آدمی اور وہ جو کچھ بھی نہیں۔ مکمل آدمی وہ ہے جس کی اپنی رائے بھی ہو اور مشورہ بھی لے، آدھا آدمی وہ ہے جس کی اپنی رائے تو نہ ہو لیکن مشورہ ضرور لے، اور بے کار وہ آدمی ہے جس میں نہ عقل ہو اور نہ ہی مشورہ طلب کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20307
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 20308
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ قَاضِي الْكُوفَةِ وَقَالَ: " الْقَاضِي لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ قَاضِيًا حَتَّى يَكُونَ فِيهِ خَمْسُ خِصَالٍ: عَفِيفٌ، حَلِيمٌ، عَالِمٌ بِمَا كَانَ قَبْلَهُ، يَسْتَشِيرُ ذَوِي الْأَلْبَابِ، لَا يُبَالِي بِمَلَامَةِ النَّاسِ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کوفہ کے قاضی سے سوال کیا تو قاضی نے جواب دیا: قاضی بننے کے لیے پانچ خوبیاں ہونا ضروری ہیں: (۱) پاک دامن، (۲) بردبار، (۳) اپنے سے پہلے کو ماننے والا ہو، (۴) عقل والوں سے مشورہ لے، (۵) لوگوں کی ملامت کی پروا نہ کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20308
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20309
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: " كَانَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ سُمَّارٌ يَسْتَشِيرَهُمْ فِيمَا يُرْفَعُ إِلَيْهِ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ، وَكَانَ عَلَامَةُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ إِذَا أَحَبَّ أَنْ يَقُومُوا قَالَ: " إِذَا شِئْتُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ رحمہ اللہ، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ ان سے لوگوں کے ان امور کے متعلق مشورہ کرتے جو دن کو پیش آتے اور وہ ان کے درمیان علامت ہوتے، جب وہ کھڑے ہوتے تو فرماتے: جب تم چاہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20309
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20310
حَدَّثَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ اللَّاسَكِيُّ بِالرِّيِّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِابْنِهِ: " يَا بُنِيَّ لَا تَقْطَعْ أَمْرًا حَتَّى تُؤَامِرَ مُرْشِدًا، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ تَحْزَنْ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: کسی معاملہ کا فیصلہ نہ کرنا جب تک اپنے رہنما سے مشورہ نہ کر لینا، جب ایسا کرو گے غمگین نہ ہو گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20310
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 20311
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: " كَانَ سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ يَقْضِي فِي الْمَسْجِدِ، فَسُئِلَ عَنْ فَرِيضَةٍ، فَأَخْطَأَ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ: " الْقَضَاءُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا "، فَكَأَنَّهُ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ، فَرَجَعَ ذَلِكَ إِلَى أَبِي مُوسَى فَقَالَ: " أَمَّا أَنْتَ يَا سَلْمَانُ فَمَا كَانَ نَوْلُكَ تَغْضَبُ، وَأَمَّا أَنْتَ ⦗١٨٩⦘ يَا عَمْرُو فَكَانَ مِنْ نَوْلِكَ تُشَاوِرُهُ فِي أُذُنِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ مسجد میں فیصلہ کیا کرتے تھے۔ ان سے فرائض کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے غلطی کی۔ شرحبیل رحمہ اللہ نے کہا: فیصلہ اس طرح ہے، اس نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا تو اس نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے کہا: اے سلمان! آپ کو غصہ نہ کرنا چاہیے، لیکن اے عمرو! آپ اس کے کان میں مشورہ دے دیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20311
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»