السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: مشاورة الوالي والقاضي في الأمر باب: حاکم اور قاضی کا معاملات میں مشورہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20309
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: " كَانَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ سُمَّارٌ يَسْتَشِيرَهُمْ فِيمَا يُرْفَعُ إِلَيْهِ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ، وَكَانَ عَلَامَةُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ إِذَا أَحَبَّ أَنْ يَقُومُوا قَالَ: " إِذَا شِئْتُمْ ".حافظ ثناء اللہ
مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے کچھ رات کے ہم نشین تھے جن سے وہ لوگوں کے ان امور کے متعلق مشورہ کرتے جو ان کے سامنے پیش کیے جاتے، اور ان کے اور ان کے درمیان علامت یہ تھی کہ جب وہ چاہتے کہ وہ اٹھ جائیں تو فرماتے: جب تم چاہو۔