السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يكره للقاضي من الشراء والبيع والنظر في النفقة على أهله وفي ضيعته لئلا يشغل فهمه باب: قاضی کے لیے خرید و فروخت، اہلِ خانہ کے اخراجات اور اپنی جائیداد کے معاملات دیکھنے کی کراہت کا بیان تاکہ اس کی توجہ نہ بٹے۔
حدیث نمبر: 20288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " قَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ لِتَعْجَزَ عَنْ مُؤْنَةِ أَهْلِي، وَقَدْ شُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ " وَاحْتَرَفَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے فرمایا: میری قوم جانتی ہے، میں اپنے کاروبار سے اپنے گھر والوں کا خرچہ اٹھاتا تھا، لیکن اب میں مسلمانوں کے کاموں میں مصروف ہوں، اس لیے اب آلِ ابی بکر بیت المال سے خرچ لیں گے اور میں مسلمانوں کے لیے کام کروں گا۔