السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: القاضي يقضي في حال غضبه، فوافق الحق باب: قاضی غصے کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ حق کے موافق ہو جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شَرْجٍ مِنَ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ "، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ الْمَاءُ ⦗١٨٣⦘ إِلَى الْجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ ". قَالَ: وَاسْتَوعَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا قَبْلَ ذَلِكَ بِأَمْرٍ كَانَ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ قَالَ الزُّبَيْرُ: " فَمَا أَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥]. قَالَ: " فَسَمِعْتُ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ يَقُولُ: " نَظَرْنَا فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " فَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ مُخْتَصَرًا.عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے کے پانی کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ، پھر (باقی) اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری کہنے لگا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے! (یہ سن کر) آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ اور روکے رکھو، یہاں تک کہ منڈیروں تک جا پہنچے، پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑ دو۔“ تو نبی ﷺ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دیا جب انصاری نے اعتراض کیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ ﷺ نے وسعت والا معاملہ کیا تھا۔
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”اللہ کی قسم! وہ ایماندار نہیں ہو سکتے، جب تک آپ کو اپنے فیصلوں میں فیصل نہ مان لیں۔“ کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے علاوہ دوسروں سے سنا کہ ہم نے نبی ﷺ کے قول میں دیکھا کہ ”پانی روک یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے“، یہ ٹخنوں تک تھا۔