السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يكره للقاضي من الشراء والبيع والنظر في النفقة على أهله وفي ضيعته لئلا يشغل فهمه باب: قاضی کے لیے خرید و فروخت، اہلِ خانہ کے اخراجات اور اپنی جائیداد کے معاملات دیکھنے کی کراہت کا بیان تاکہ اس کی توجہ نہ بٹے۔
قَالَ وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَكَلَ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنَ الْمَالِ، وَاحْتَرَفَ فِي مَالِ نَفْسِهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ كَمَا مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسَمِ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أَبَا بكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ حِينَ اسْتُخْلِفَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى السُّوقِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيْنَ تُرِيدُ؟ "، قَالَ: " السُّوقَ "، قَالَ: " وَقَدْ جَاءَكَ مَا يَشْغَلُكَ عَنِ السُّوقِ؟ "، قَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ يَشْغَلُنِي عَنْ عِيَالِي؟ قَالَ: " تَفْرِضُ بِالْمَعْرُوفِ ". ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَذَكَرَ فِيهِ وَصِيَّتَهُ بِرَدِّ مَا أُخِذَ مِنْهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ ".عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، نبی ﷺ کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ اور ان کے گھر والے بیت المال سے خرچہ لیتے تھے اور اپنے لیے مال بھی کماتے تھے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا جس وقت وہ خلیفہ بنے۔۔۔ جب صبح ہوئی تو وہ بازار کی طرف چل دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا: بازار کا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ کے پاس وہ ذمہ داری ہے جو آپ کو بازار سے مشغول رکھے گی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، کیا میرے اہل سے بھی مجھے مصروف کر دے گی؟ فرمایا: نیکی کا فریضہ ادا کرو۔ پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا دیا کہ بیت المال کا مال واپس کر دیا جائے جو ہم نے وصول کیا۔