السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20206
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ مُصِيبُونَ وَمَنْصُورُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيَتَّقِ اللهَ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ".حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تم آزمائے جاؤ گے، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہیں فتح دی جائے گی۔ تم میں سے جو اس کو پالے، وہ اللہ سے ڈرے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔“