السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟، قَالَ: " لَيَعْتَمِلُ بِيَدِهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ، وَيَتَصَدَّقُ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: " يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ "، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: " يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ "، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، قَالَ: " لِيُمْسِكْ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ صَدَقَةٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ " فِي كُلِّ يَوْمٍ "، وَلَا قَوْلُهُ: " وَيَنْهَى عَنِ ⦗١٦٢⦘ الْمُنْكَرِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، كَمَا مَضَى.ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر دن مسلمان پر صدقہ ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اگر کوئی نہ پائے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ دے اور صدقہ کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اگر وہ ایسا نہ کرے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مصیبت زدہ ضرورت مند کی مدد کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: ”اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ برائی سے رک جائے، یہی اس کے لیے صدقہ ہے۔“
(ب) یہ ابوداؤد کی حدیث کے الفاظ ہیں، سلیمان کی روایت میں ”ہر دن“ کے الفاظ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ قول کہ: ”وہ برائی سے منع کرے۔“