السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20205
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا زُهَيْرٌ - هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: " مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ "، قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟ قَالَ: " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔“ صحابہ کہنے لگے: ہماری مجالس ضرور ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے ضرور بیٹھنا ہے تو راستے کو اس کا حق دو۔“ انہوں نے کہا: راستے کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نظر کو نیچا رکھنا، تکلیف کو روکنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔“