السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20201
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ مُدْرِكِ بْنِ الْمُهَلَّبِ بِسَجِسْتَانَ فِي سُرَادِقِهِ فَسَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ حَقَّهُ مِنَ الْقَوِيِّ، وَهُوَ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے فرمایا: ”اللہ کسی امت کو پاک نہیں فرماتا جو اپنے کمزور کا حق قوی سے لے کر نہ دے، وہ فائدہ اٹھانے والا نہیں۔“