السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20200
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، ثنا هِشَامٌ - يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَضَرَهُ شَيْءٌ، فَتَوَضَّأَ وَخَرَجَ وَمَا يُكَلِّمُ أَحَدًا، فَلَصِقْتُ بِالْحُجُرَاتِ أَسْمَعُ مَا يَقُولُ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: " مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبَكُمْ، وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيَكُمْ، وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرَكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، میں نے آپ کے چہرے سے پہچان لیا کہ کوئی چیز آئی ہے۔ آپ نے وضو کیا اور چلے گئے۔ کسی سے کلام نہیں کیا۔ میں حجرے کے ساتھ لگی تاکہ آپ کی بات سن سکوں۔ آپ منبر پر بیٹھے اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ فرماتے ہیں کہ نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم مجھے پکارو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں، تم مجھ سے سوال کرو، میں تمہیں عطا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد طلب کرو، میں تمہاری مدد نہ کروں۔“