السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20202
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو مُوسَى، وَبُنْدَارٌ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ، فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ فَاسْتَقْرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ تَمْرًا، وَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ، وَلَكِنَّهُ كَانَ غُبْرًا "، ثُمَّ قَالَ: " كَذَلِكَ يَفْعَلُ عِبَادُ اللهِ الْمُؤْمِنُونَ، إِنَّ اللهَ لَا يَتَرَحَّمُ عَلَى أُمَّةٍ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهِمْ حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ ". هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ الصَّحِيحُ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی کھجور نبی ﷺ کے ذمہ قرض تھی، وہ آپ ﷺ سے تقاضا کر رہا تھا تو نبی ﷺ نے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کھجور لے کر قرض چکا دیا اور فرمایا: ”میرے پاس ردی کھجور تھی“، پھر فرمایا: ”اللہ کے مومن بندے اس طرح ہی کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت اس امت پر رحم نہیں فرماتے جس کا غریب اپنا حق بغیر مشقت کے حاصل نہ کرلے۔“