السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20199
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ ⦗١٦٠⦘ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لَتَدْعُوَنَّهُ، فَلَا يَسْتَجِيبُ لَكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم نیکی کا ضرور حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ اللہ اپنی طرف سے تم پر عذاب مسلط کر دے گا۔ پھر تم اللہ سے دعائیں کرو گے، اللہ تمہاری دعائیں قبول نہ کرے گا۔“