السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: " كَانُوا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَوَقَعَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مَا يَقَعُ بَيْنَ النَّاسِ، فَوَثَبَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: " أَلَا أَقُومُ فَآمُرَهُمَا بِالْمَعْرُوفِ، وَأَنْهَاهُمَا عَنِ الْمُنْكَرِ "، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: " عَلَيْكَ نَفْسَكَ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] فَسَمِعَهَا ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: " لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ الْآيَةِ بَعْدُ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ حِينَ أُنْزِلَ وَكَانَ مِنْهُ آيٌ مَضَى تَأْوِيلُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ، وَكَانَ مِنْهُ آيٌ وَقَعَ تَأْوِيلُهُ بَعْدَ الْيَوْمِ، وَمِنْهُ آيٌ يَقَعُ تَأْوِيلُهُ ⦗١٥٨⦘ عِنْدَ السَّاعَةِ، وَمَا ذَكَرُوا مِنْ أَمْرِ السَّاعَةِ، وَمِنْهُ آيٌ يَقَعُ تَأْوِيلُهُ بَعْدَ يَوْمِ الْحِسَابِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَمَا دَامَتْ قُلُوبُكُمْ وَاحِدَةً وَأَهْوَاؤُكُمْ وَاحِدَةً، وَلَمْ تَلْبِسُوا شِيَعًا وَلَمْ يَذُقْ بَعْضُكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَمُرُوا وَانْهَوْا، فَإِذَا اخْتَلَفَتِ الْقُلُوبُ وَالْأَهْوَاءُ وَأُلْبِسْتُمْ شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَامْرُؤٌ وَنَفْسُهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ جَاءَ تَأْوِيلُهَا ".ابوعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف کود رہا تھا، ان میں سے بعض نے کہا: کیا میں ان کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع نہ کروں؟ بعض کہنے لگے: اپنے نفس کو لازم پکڑو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو، جب تم ہدایت یافتہ ہوئے تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو انہوں نے فرمایا: اس آیت کی تفسیر بعد میں نہ آئے گی، جب قرآن نازل کیا گیا، بعض آیات تو ایسی بھی ہیں کہ نزول سے پہلے تفسیر کر دی گئی، کسی آیت کی ایک دن بعد تفسیر کر دی گئی اور کسی آیت کی تفسیر قیامت کو ہو گی جو انہوں نے قیامت کے امور کے متعلق بیان کیا اور بعض کی تفسیر حساب و کتاب، جنت و جہنم کے بعد میں ہو گی، تمہارے دل اور خواہشات ایک رہیں اور گروہوں کا التباس نہ ہوا اور بعض تمہارے نے بعض سے تکلیف کو بھی نہ چکھا، نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو، تمہارے دل اور خواہشات مختلف ہوں گی، تم گروہوں میں بٹ گئے اور جب تمہارے بعض بعض سے تکلیف پائیں گے، اس وقت انسان صرف اپنا بچاؤ رکھیں گے، اس وقت اس کی تفسیر آئے گی۔