السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ قَبْلَ أَنْ يَذْهَبَ بَصَرُهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: " مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ "، فَقَالَ لِي: " هَلْ تَعْرِفُ أَيْلَةَ "، فَقُلْتُ: " وَمَا أَيْلَةُ؟ "، قَالَ: " قَرْيَةٌ كَانَ بِهَا نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَحَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِمُ الْحِيتَانَ يَوْمَ السَّبْتِ، فَكَانَتْ حِيتَانُهُمْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا بِيضٌ سِمَانٌ كَأَمْثَالِ الْمَخَاضِ بِأَفْنِيَائِهِمْ وَأَبْنِيَاتِهِمْ فَإِذَا كَانَ غَيْرَ يَوْمِ السَّبْتِ لَمْ يَجِدُوهَا، وَلَمْ يُدْرِكُوهَا إِلَّا فِي مَشَقَّةٍ وَمَؤوُنَةٍ شَدِيدَةٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ، أَوْ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنْهُمْ: " لَعَلَّنَا لَوْ أَخَذْنَاهَا يَوْمَ السَّبْتِ، وَأَكَلْنَاهَا فِي غَيْرِ يَوْمِ السَّبْتِ "، فَفَعَلَ ذَلِكَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْهُمْ، فَأَخَذُوا؛ فَشَوَوْا؛ فَوَجَدَ جِيرَانُهُمْ رِيحَ الشِّوَاءِ، فَقَالُوا: " وَاللهِ مَا نَرَى أَصَابَ بَنِي فُلَانٍ شَيْءٌ "، فَأَخَذَهَا آخَرُونَ حَتَّى فَشَا ذَلِكَ فِيهِمْ وَكَثُرَ، فَافْتَرَقُوا فِرَقًا ثَلَاثَةً: فِرْقَةٌ أَكَلَتْ، وَفِرْقَةٌ نَهَتْ، وَفِرْقَةٌ قَالَتْ " {لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا} [الأعراف: ١٦٤] " فَقَالَتِ الْفُرْقَةُ الَّتِي نَهَتْ: إِنَّا نُحَذِّرُكُمْ غَضَبَ اللهِ وَعِتَابَهُ أَنْ يُصِيبَكُمُ اللهُ بِخَسْفٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ، وَاللهِ لَا نُبَايِتُكُمْ فِي مَكَانٍ وَأَنْتُمْ فِيهِ "، قَالَ: " فَخَرَجُوا مِنَ السُّورِ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَضَرَبُوا بَابَ السُّورِ، فَلَمْ يُجِبْهُمْ أَحَدٌ، فَأَتَوْا بِسُلَّمٍ، فَأَسْنَدُوهُ إِلَى السُّورِ، ثُمَّ رَقِيَ مِنْهُمْ رَاقٍ عَلَى السُّورِ، فَقَالَ: يَا عِبَادَ اللهِ، قِرَدَةٌ وَاللهِ لَهَا أَذْنَابٌ تَعَادَى، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ مِنَ السُّورِ، فَفَتَحَ السُّورَ، فَدَخَلَ النَّاسُ عَلَيْهِمْ، فَعَرَفَتِ الْقُرُودُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْإِنْسِ، وَلَمْ تَعْرِفِ الْإِنْسُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْقُرُودِ، قَالَ: فَيَأْتِي الْقِرْدُ إِلَى نَسِيبِهِ وَقَرِيبِهِ مِنَ الْإِنْسِ، فَيَحْتَكُّ بِهِ، وَيَلْصَقُ بِهِ، وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ: " أَنْتَ فُلَانٌ؟ " فَيُشِيرُ بِرَأْسِهِ، أَيْ: نَعَمْ، وَيَبْكِي، وَتَأْتِي الْقِرْدَةُ إِلَى نَسِيبِهَا وَقَرِيبِهَا مِنَ الْإِنْسِ، فَيَقُولُ لَهَا الْإِنْسَانُ: " أَنْتِ فُلَانَةُ؟ " فتشيرُ بِرَأْسِهَا، أَيْ: نَعَمْ، وَتَبْكِي، فَيَقُولُ لَهُمُ الْإِنْسُ: " إِنَّا حَذَّرْنَاكُمْ غَضَبَ اللهِ وَعِقَابَهُ أَنْ يُصِيبَكُمْ بِخَسْفٍ أَوْ مَسْخٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَأَسْمَعُ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ {فأَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ} فَلَا أَدْرِي مَا فَعَلْتِ الْفِرْقَةُ الثَّالِثَةُ؟ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " فَكَمْ قَدْ رَأَيْنَا مُنْكَرًا فَلَمْ نَنْهَ عَنْهُ، قَالَ عِكْرِمَةُ: " فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى - جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ - أَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا وَكَرِهُوا حِينَ قَالُوا: {لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ⦗١٥٩⦘ اللهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا} [الأعراف: ١٦٤] "، فَأَعْجَبَهُ قُولِي ذَلِكَ، وَأَمَرَ لِي بِبُرْدَيْنِ غَلِيظَينِ، فَكَسَانِيهِمَا.عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جب کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ابھی ان کی بینائی درست تھی اور وہ رو رہے تھے، میں نے پوچھا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم ایلہ بستی کو جانتے ہو؟“ میں نے کہا: ایلہ کیا ہے؟ فرمایا: ”اس بستی میں یہودی آباد تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن ان پر مچھلی پکڑنا حرام قرار دے دیا، ہفتہ کے دن مچھلیاں خوب موٹی تازی اور ظاہر ہو کر آتیں، گویا کہ ان کے حوض بھرے ہوئے محسوس ہوتے اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو وہ صرف مشقت اور تکلیف کے ساتھ مچھلی حاصل کر پاتے۔ ان میں سے بعض بعض سے کہنے لگے یا ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر ہم انہیں ہفتہ کے دن پکڑ لیں اور دوسرے دن کھا لیا کریں (تو کیا حرج ہے)؟ چنانچہ ایک گھر والوں نے ایسا کر لیا، انہوں نے مچھلی پکڑی اور اسے بھونا تو ان کے پڑوسیوں نے بھنی ہوئی مچھلی کی خوشبو پائی، وہ کہنے لگے: فلاں کو تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر دوسروں نے بھی مچھلی پکڑنا شروع کر دی، یہاں تک کہ یہ بات بستی میں عام ہو گئی اور وہ لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے: ایک وہ جو مچھلی کھاتے تھے، دوسرے وہ جو منع کرتے تھے اور تیسرے وہ جنہوں نے کہا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة الأعراف: 164] ”تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جسے اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا اسے سخت عذاب دینے والا ہے؟“
اس گروہ نے جو (برائی سے) منع کرتا تھا، کہا: ہم تمہیں اللہ کے غصے، عذاب اور زمین میں دھنسائے جانے یا پتھروں کی بارش ہونے یا اس کے علاوہ دیگر عذابوں سے ڈراتے ہیں، اللہ کی قسم! ہم اس جگہ رات نہیں گزاریں گے جہاں تم رہتے ہو۔ چنانچہ وہ بستی سے نکل گئے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے آ کر ان کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن کوئی جواب نہ ملا، پھر وہ سیڑھیاں لائے اور انہیں دیواروں کے ساتھ لگایا، ایک شخص اس کے ذریعے دیوار پر چڑھا اور پکارنے لگا: اے اللہ کے بندو! یہ تو بندر بن چکے ہیں، اللہ کی قسم! ان کی دمیں ہیں، اس نے تین مرتبہ یہ کہا، پھر وہ دیوار سے اترا اور دروازہ کھولا، جب لوگ داخل ہوئے تو بندروں نے اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا لیکن انسان بندروں میں سے اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے، وہ بندر اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتے اور اس سے چمٹ جاتے، انسان ان سے پوچھتے: کیا تم فلاں ہو؟ تو وہ سر کے اشارے سے کہتے: ہاں، اور وہ روتے تھے۔ انسان ان سے کہتے تھے: ہم تمہیں اللہ کے غضب، عذاب، زمین میں دھنسائے جانے، شکلوں کے بگڑنے یا اس کے علاوہ اللہ کے دیگر عذابوں سے ڈراتے رہے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا رہے تھے: ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ [سورة الأعراف: 165] ”ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے سخت عذاب میں پکڑ لیا۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”میں نہیں جانتا کہ تیسرے گروہ کے ساتھ کیا کیا گیا۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم کتنی ہی برائیاں دیکھتے ہیں لیکن ان سے منع نہیں کرتے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے تو (برائی کا) انکار کیا تھا اور اسے ناپسند کیا تھا جب انہوں نے یہ کہا تھا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة الأعراف: 164]۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ بات انہیں پسند آئی اور انہوں نے مجھے دو موٹی چادریں پہنانے کا حکم دیا۔