السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أنبأ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ الْهَمْدَانِيُّ ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ: " كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ؟ " قَالَ: " أَيَّةُ آيَةٍ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: " قَوْلُهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] قَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَقَدْ سَأَلْتُ عَنْهَا خَبِيرًا، سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " بَلْ أَنْتُمُ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا يَدَانِ لَكَ بِهِ، فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ، وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَوَامِّ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكَ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ كَأَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ شُعَيْبٍ زَادَ ابْنُ الْمُبَارَكِ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَزَادَنِي غَيْرُهُ: قَالُوا: " يَا رَسُولَ اللهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ "، قَالَ: " أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ".ابن شعیب، ابو امیہ شعبانی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے کہا: اس آیت کا آپ کیا مفہوم لیتے ہیں؟ کہنے لگے: کون سی آیت؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو۔ جب تم ہدایت یافتہ ہوئے تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بارے میں ایک باخبر ہستی سے سوال کیا تھا، میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرو۔ جب تم ایسی بخیلی کو دیکھو جس کی پیروی کی جائے اور ایسی خواہش جس کی اتباع کی جائے اور دنیا کو ترجیح دی جائے اور آدمی اپنی رائے کو پسند کرے اور آپ ایسا معاملہ دیکھیں جو آپ کے بس کی بات نہ ہو، اس وقت اپنے آپ کو لازم پکڑو اور عوام کے مسائل کو چھوڑ دو۔ کیونکہ اس کے بعد صبر کے ایام ہیں۔ ان ایام میں صبر کرنا جیسے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑنا ہے۔ ان ایام میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔“
(ب) یہ ابن شعیب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ ابن مبارک نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ مجھے کسی اور نے یہ زائد بتایا: صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ان میں سے پچاس آدمیوں کا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے پچاس آدمیوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔“