السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20192
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ وَأَعَزُّ مِمَّنْ يَعْمَلُ بِهَا، ثُمَّ لَا يُغَيِّرُونَهُ، إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ " وَفِي حَدِيثِ وَهْبٍ " إِلَّا عَمَّهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن جریر اپنے والد (سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس قوم میں نافرمانی عام ہو اور معزز لوگ نافرمانی کریں، پھر وہ اسے منع نہ کریں، تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب مسلط کر دے۔“