السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20191
وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِزِيَادَتِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا فَلَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سِنَانٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
ہشیم، اسماعیل سے کچھ اضافے کے ساتھ نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس قوم میں گناہ عام ہو اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں، تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔“