السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20190
وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِمَعْنَاهُ، زَادَ فِيهِ: " إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ، وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهَا، ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ الواسطی، اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں، یہ اسی معنی میں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”تم اس آیت کو پڑھتے ہو لیکن اس کو بغیر محل کے استعمال کرتے ہو۔“