السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20189
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: " قَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوَا الظَّالِمَ ثُمَّ لَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكُوْا أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ "..حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو، جب تم ہدایت یافتہ ہوئے کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“
میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھیں پھر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔“