السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْوَاقِعِ فِي حُدُودِ اللهِ وَالْمُدَاهِنِ فِيهَا، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ سُفْلًا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ عُلْوًا فَكَانَ الَّذِينَ فِي السُّفْلِ يَسْتَقُونَ مِنَ الْعُلُوِّ، فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ، فَيُؤْذُونَهُمْ، فَقَالَ الَّذِينَ فِي الْعُلُوِّ: " قَدْ آذَيتُمُونَا، تَصُبُّونَ عَلَيْنَا الْمَاءَ "، قَالَ: " فَأَخَذُوا فَأْسًا "، يَعْنِي الَّذِينَ فِي السُّفْلِ، " فَجَعَلُوا يَحْفِرُونَ فِي السَّفِينَةِ، فَقَالَ لَهُمُ الَّذِينَ فِي الْعُلُوِّ: " مَا تَصْنَعُونَ؟ "، " فَإِنْ تَرَكُوهُمْ وَمَا يُرِيدُونَ هَلَكُوا جَمِيعًا، وَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ نَجَوْا جَمِيعًا ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی حدود میں واقع ہونے اور سستی کرنے والے کی مثال ان کشتی والوں کی طرح ہے، جنہوں نے کشتی کے اوپر اور نیچے والے حصہ کے بارے میں قرعہ اندازی کی، تو نیچے کے حصہ والے اوپر والوں سے پانی لاتے تھے۔ وہ ان کے پاس سے گزرتے تو ان اوپر والوں کو تکلیف ہوتی۔ اوپر والے کہنے لگے: تم ہمارے اوپر پانی گراتے ہو جس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ نیچے والوں نے کلہاڑا پکڑ لیا اور کشتی کو توڑنے لگے۔ اوپر والوں نے کہا: تم کیا کر رہے ہو؟ اگر انہوں نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جس کا وہ ارادہ رکھتے ہیں تو وہ تمام ہلاک ہو جائیں گے، اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں گے تو وہ سب نجات پا لیں گے۔“